بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق مرکزی چیئرمین عمران بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ عوام پر ریاستی و قومی جبر کو مزید دوام دینے کے لئے پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والے سیاسی رہنماوُں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ دشمن وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ دن ایک خاتون جو کہ خود جبری گمشدگی کا شکار چار ماہ سے ریاستی اداروں کی حراست میں تھا انہیں اچانک منظر عام پر لاکر ان کے ذریعے پریس کانفرنس کرکے بی وائی سی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ پر بے بنیاد، جھوٹے اور من گھڑت الزام لگاکر ریاستی ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی مضبوط و منظم آواز کو دبانے کی ناکام کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ایک پرامن سیاسی جُہدکار، انسانی حقوق کے متحرک کارکن اور بلوچ عوام کی توانا آواز ہے جو بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، جبری گمشدگیوں،بلوچ عوام کے قتل عام اور ساحل و وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف جدوجہد کے میدان میں اپنا فعال،منظم و عملی کردار ادا کررہا ہے جو بلوچ دشمن قوتوں کو ناگوار گزر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اب جھوٹے و من گھڑت پروپیگنڈوں پر اُتر آئے ہیں۔
عمران بلوچ نے کہا کہ سرفراز بگٹی جیسے بلوچ دشمن عناصر اپنے آقائوں کو خوش رکھنے کے لئے اس حد تک نیچے گِرچکے ہیں کہ ریاستی اداروں کے زیر حراست ایک مظلوم خاتون کے ذریعے ایک پرامن سیاسی رہنما وہ بھی ایک خاتون ہے پر الزامات کی بوچھاڑ کررہے ہیں ۔ظلم و ذیادتیوں،جبر و تشدد کے خلاف اٹھنے والی منظم آواز کو خاموش کرانے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے و حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ کو خاموش کرانے کے لئے یہ ہتھکنڈے و حربے کسی کام کے نہیں،ماضی کی نسبت آج بلوچ زیادہ علمی و شعوری حوالے سے بلوچ تحریک سے منسلک اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لارہے ہیں اور ساتھ ہی آج دنیا کے کونے کونے سے بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھ رہی ہے۔
عمران بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے خلاف ریاستی میڈیا ٹرائل کے جواب میں ہر بلوچ عوام آواز بلند کرکے حکمرانوں کا مکروہ چہرہ سب کے سامنے عیاں کریں۔