گلزادی بلوچ کی گرفتاری کو ایک سال ،ایمنسٹی انٹرنیشنل کا فوری رہائی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا نے گلزادی بلوچ کی تقریباً ایک سال سے جاری غیر قانونی حراست پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کے آفیشل ایکس ہینڈل سے جاری بیان اور آڈیو میں گلزادی بلوچ کی بہن نے گرفتاری کے بعد کے ابتدائی لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ گھر سے اٹھائے جانے کے بعد گھنٹوں تک ان کا کوئی اتا پتا نہیں تھا، اور خاندان شدید خوف و ہراس میں مبتلا رہا۔

ایمنسٹی کے مطابق گلزادی بلوچ کو تقریباً ایک سال قبل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ حکام نے ان کے گھر سے حراست میں لیا، جس کے بعد سے وہ مسلسل پری ٹرائل ڈٹینشن میں ہیں۔ ان پر کوئی شفاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں بنیادی حقوق تک رسائی حاصل ہے۔

گلزادی کی بہن نے آڈیو پیغام میں بتایا کہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ گلزادی کو کہاں لے جایا گیا ہے۔ وہ لمحے خوف، بے بسی اور شدید پریشانی سے بھرے ہوئے تھے۔

ایمنسٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ گلزادی بلوچ کی گرفتاری صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ بلوچستان میں پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی علامت ہے۔

تنظیم نے نشاندہی کی کہ اسی ماہ کوئٹہ پریس کلب میں جبری گمشدہ اور گرفتار کارکنوں کے اہلِ خانہ کو پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا گیا، جو بنیادی شہری آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گلزادی بلوچ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ تمام من مانی طور پر گرفتار بلوچ کارکنوں کو قانونی عمل کے بغیر حراست میں رکھنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اوربلوچستان میں اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کے حق کو یقینی بنایا جائے۔

Share This Article