بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماسمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ آواران میں جبری گمشدگیوں کے خلاف اور لاپتہ دلجان بلوچ کے لواحقین کے دھرنے کی حمایت میں منعقدہ سیمینار میں شرکت کرنے والوں کے لیے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ سیمینار کیلئے دیگر علاقوں سے آنے والے شرکاء کو زبردستی واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی، مگر اس کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے یہ ثابت کر دیا کہ طاقت کے بل بوتے پر آپ راستے بند کر سکتے ہیں، سیاسی اجتماعات پر پابندیاں لگا سکتے ہیں، لیکن بلوچ عوام میں جو قومی شعور، فکری آگہی اور سماجی ذمہ داری بیدار ہو چکی ہے، اس پر قابو پانا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ سات دہائیوں سے طاقت اور جبر کا مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود آج بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں مقیم بلوچ عوام میں جو قومی بیداری پیدا ہوئی ہے، وہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ بیداری ثابت کرتی ہے کہ ظلم و جبر کے باوجود ہماری جدوجہد اور مزاحمت ختم نہیں ہوئی، بلکہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔