آواران میں سیمینار کے انعقاد اورخواتین کی شرکت کو ریاستی جبرنہ روک سکی،سمی بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماسمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ آواران میں جبری گمشدگیوں کے خلاف اور لاپتہ دلجان بلوچ کے لواحقین کے دھرنے کی حمایت میں منعقدہ سیمینار میں شرکت کرنے والوں کے لیے تمام راستے بند کر دیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ سیمینار کیلئے دیگر علاقوں سے آنے والے شرکاء کو زبردستی واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی، مگر اس کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے یہ ثابت کر دیا کہ طاقت کے بل بوتے پر آپ راستے بند کر سکتے ہیں، سیاسی اجتماعات پر پابندیاں لگا سکتے ہیں، لیکن بلوچ عوام میں جو قومی شعور، فکری آگہی اور سماجی ذمہ داری بیدار ہو چکی ہے، اس پر قابو پانا ممکن نہیں۔

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1861988735883026906

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ سات دہائیوں سے طاقت اور جبر کا مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود آج بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں مقیم بلوچ عوام میں جو قومی بیداری پیدا ہوئی ہے، وہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ بیداری ثابت کرتی ہے کہ ظلم و جبر کے باوجود ہماری جدوجہد اور مزاحمت ختم نہیں ہوئی، بلکہ مزید مضبوط ہوئی ہے۔

Share This Article