ضلع کرم : فرقہ وارانہ فسادات وکشیدگی میں  3 دن دوران 80 سے زائدافرادہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلعے کرم میں تین روز سے جاری فرقہ ورانہ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعدد 82 ہوگئی ہے جب کہ 156 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے اتوار کو مقامی انتظامیہ کے عہدے داران نے نام نے ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ 21، 22 اور 23 نومبر کو قافلے پر حملے اور بعد ازاں ہونے والی مسلح جھڑپوں میں کم از کم 82 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایک عہدے دار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے میں 16 افراد سنی ہیں جب کہ 66 کا تعلق شیعہ کمیونٹی سے ہے۔

مقامی عہدے دار کے مطابق کرم میں موبائل نیٹ ورک معطل ہے جب کہ مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بھی بند ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم 2018 میں صوبے میں ضم ہونے سے قبل فاٹا کہلانے والے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں شامل تھا۔

کرم میں بڑی تعداد میں شیعہ کمیونٹی آباد ہے۔ ماضی میں بھی یہاں فرقہ ورانہ جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو ماضی میں بھی کرم میں فرقہ ورانہ کشیدگی اور تصادم کے واقعات پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

حالیہ جھڑپوں کا آغاز جمعرات کو پولیس کی حفاظت میں جانے والے شیعہ کمیونٹی کے ایک قافلے پر حملے کے بعد ہوا جس میں 43 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر جمعرات کو ہونے والے حملے کے اگلے روز لوئر کرم میں بگن کے علاقے پر مسلح افراد نے حملہ کردیا تھا جس میں مقامی ذرائع کے مطابق 400 سے زائد مکان اور دکانیں نذر آتش کردی گئیں۔

ہفتے کی شب تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں 300 سے زائد خاندان علاقے سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

کرم واقعے پر مختلف علاقوں میں شہری سراپا احتجاج ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق لوئرکرم بگن پر مسلح لشکر کشی کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں بگن پر حملے میں مبینہ طور پر لاپتا ہونے والے افراد کے معاملے پر پہنچنے والے قومی جرگے کو بھی مارٹر گولے سے حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں تین افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق کرم میں موبائل نیٹ ورک معطل ہے اور مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کی آمد و رفت رکی ہوئی ہے۔

صوبائی حکومت کے ایک وفد نے ہفتے کو اہلِ تشیع کمیونٹی سے ملاقات کی ہے اور اتوار کو سنی کمیونٹی سے اس وفد کی ملاقات متوقع ہے۔

ہفتے کو ضلع کرم میں امن و امان کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے پاڑہ چنار آنے والے صوبائی حکام کے وفد کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ بھی ہوئی تھی۔ البتہ اس واقعے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔

صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی سربراہی میں حکومتی وفد میں چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری، کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ سمیت دیگر اعلیٰ افسران شامل تھے۔

اتوار کو آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہماری ترجیح فریقین کے درمیان جنگ بندی کرانا ہے۔ ایک بار اس میں کامیابی مل جائے تو دیگر امور پر زیرِ بحث لائے جائیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment