حکومت بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق اسلحہ لے کر چلنے اور 5 سے زائد افراد کے اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران ہر قسم کے غیر قانونی اجتماعات اور اسلحے کے استعمال پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کوئٹہ میں سرینہ چوک پر لاپتا طالب علم محمد مصور کی بازیابی کے لیے دھرنا اور احتجاج گزشتہ 9 روز سے جاری ہے۔
اس کے علاوہ 25 نومبر کو آل پارٹیز نے بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں نیا فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور ایران و افغانستان بارڈرزکو سیکورٹی بڑھا مکمل بند کردیا ہے جبکہ بین الصوابائی راستوں پر سیکورٹی تعینات کردی گئی ہے اورمسافر ٹرانسپورٹ پر پابندی لگادی گئی ہے۔