بلوچ جبری گمشدگیوں کیخلاف بلوچستان کے ضلع کیچ کر مرکزی شہر تربت میں دھرناجاری ہے اور خضدار میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیااور ریلی نکالی گئی۔
ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے گذشتہ شب پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے شیر جان اور ارشاد بلوچ کے لواحقین نے تربت فدا احمد چوک پر جبری گمشدگیوں کے خلاف دھرنا دے دیا ہے۔
لواحقین نے دھرنا دیتے ہوئے لاپتہ ارشاد و شیر جان کی فوری منظرعام پر لانے و بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
لواحقین کے مطابق گذشتہ شب پاکستانی فورسز نے بڑی تعداد میں چھاپہ مارکر دونوں نوجوانوں کو تشدد کے بعد زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد ہم نے تھانے اور متعلقہ اداروں سے دریافت کی تو دونوں نوجوان انکے حراست میں نہیں تھے۔
تربت لواحقین کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے بچوں نے کوئی جرم کی ہے تو وہ کیوں کسی قانونی ادارے کے پاس نہیں، انھیں کس کے تحویل میں اور کس بنیاد پر لاپتہ رکھا گیا ہے۔
تربت لاپتہ شیر جان و ارشاد کے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر انکے پیارے منظرعام پر لاکر بازیاب نہیں کئے گئے تو وہ مجبور ہوکر مرکزی شاہراہ پر دھرنا دینگے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی، اور انھوں نے سیاسی و انسانی حقوق کے اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ لاپتہ شیر جان و ارشاد بلوچ کے حوالے سے اپنی آواز بلند کریں اور انکی بازیابی میں کردار ادا کریں۔
دوسری جانب دو سال قبل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے سلمان بلوچ کے اہلخانہ کی جانب سے آج شہر میں احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا اور ریلی نکالی گئی۔
اس موقع پر مرد خواتین و بچوں نے شہید پروفیسر رزاق چوک سے آزادی چوک تک ایک ریلی نکالی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
احتجاج کے دوران ایک دفعہ پھر سے پولیس کی بھاری نفری شرکاء کے قریب تعینات کردی گئی جبکہ شہر میں موبائل اور انٹرنیٹ سورسز بھی معطل کردیے گئے جنہیں بعد از احتجاج کھول دیا گیا ہے۔
اس موقع پر ریلی میں جبری لاپتہ سلمان بلوچ کے لواحقین کے ہمراہ جبری لاپتہ آصف و رشید بلوچ کے ہمشیرہ سائرہ بلوچ لاپتہ چنگیز بلوچ، ذاکر بلوچ اور طیب بلوچ لواحقین سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان بھی شریک ہوئے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جبری لاپتہ سلمان بلوچ کے والدہ کا کہنا تھا میرے بیٹے سلمان کو دو سال قبل کوئٹہ ہزار گنجی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا دو سالوں سے بیٹے کی بازیابی کے لئے احتجاجوں اور عدالتوں کے چکر لگانے کے باوجود سلمان بلوچ کو بازیاب نہیں کیا گیا ہے اور نا ہی ہمیں ابتک بتایا گیا ہے کہ انھیں کیوں اور کس جرم میں لاپتہ کردیا گیا ہے۔
لاپتہ سلمان بلوچ کے والدہ نے حکومت اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انکے بیٹے کی منظرعام پر لانے اور بازیابی میں کردار ادا کریں۔
دوسری جانب لاپتہ سلمان بلوچ کے جبری گمشدگی کے دو سال مکمل ہونے پر لواحقین کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس سابقہ ٹوئٹر پر کیمپین کا اعلان کیا ہے، لواحقین نے بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنان سے اس کیمپین میں شرکت کرنے اور آواز اُٹھانے کی اپیل کی ہے۔