موسیٰ خیل میں فورسزمقابلے میں ہلاک 3 افراد کی شناخت بطورلاپتہ افراد کے ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے موسیٰ خیل میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں گذشتہ دنوں ایک مقابلے میں مارے جانے والے 3 افراد کی بطور لاپتہ افراد شناخت ہوگئی ہے ۔

گذشتہ دنوں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ موسیٰ خیل کے مقام پر ایک مقابلے میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 3 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

حسب روایت سی ٹی ڈی کی جعلی مقابلے کی قلعی کھل گئی ہے اورمارے جانے والے افراد پہلے سے جبری لاپتہ تھے اور فورسز کے تحویل میں تھے جنہیں عسکریت پسندوں کے نام پر ایک جعلی مقابلے میں قتل کردیا گیاہے۔

سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والے 3 افراد کی شناخت محمد نواز بزدار، غلام بزدار اور جعفر مری کے ناموں سے ہوئی ہے جو پہلے سے جبری طور لاپتہ کیے تھے۔

جعلی مقابلے میں قتل ہونے والوں ہونے والے محمد نواز بزدار، جو راڑہ شم کے علاقے برگ پشت کے رہائشی ہیں، کو 10 ستمبر کو لورالائی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

غلام بزدار کو 21 ستمبر کو راڑہ شم کے علاقے سے بزدار پٹرول پمپ سے جبری لاپتہ کیاگیا جبکہ جعفر مری کو راڑہ شم کے ایک دکان سے سودا سلف لیتے ہوئے 2 اکتوبر کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں کہ سی ٹی ڈی نے جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں قتل کیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلوں پہ بلوچ قوم متعدد دفعہ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرچکی ہیں جبکہ پاکستان کے قومی و صوبائی اسمبلیوں میں جعلی مقابلوں پہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

گذشتہ سال تربت میں زیرحراست ایک نوجوان کو جعلی مقابلے میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئیں۔ مذکورہ واقعے کے خلاف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ تا اسلام آباد لانگ مارچ کیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment