جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج، بلوچستان کے لیے عالمی مداخلت کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کی جانب سے جنیوا میں عالمی مہم کے تحت بروکن چیئر کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور فوٹو ایگزیبیشن منعقد کیا گیا، جس میں مختلف رہنماؤں نے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔

مظاہرے میں مہرا بلوچ، حفیظان وڈھیو، حکیم واڈیلہ ، ڈاکٹر لکھو لوہانہ اور فہیم بلوچ ،اصغر بلوچ اور جمال بلوچ سمیت کئی نمائندوں نے تقاریر کیں۔

مقررین نے اپنے خطابات میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، فوجی آپریشنز اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں پر عالمی خاموشی تشویشناک ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف کے لیے عالمی اداروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ۔

مقررین نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی آواز عالمی سطح پر سنائی دینے کے لیے ایسے احتجاج ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے اور متاثرین کے لیے انصاف کی راہ ہموار کرے۔

بی این ایم کی جانب سے جاری اس عالمی مہم کا مقصد بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی فورمز تک پہنچانا ہے۔ جنیوا میں ہونے والا یہ احتجاج اس سلسلے کی اہم کڑی تھا، جہاں مختلف ممالک سے آئے کارکنان نے بھی اظہارِ یکجہتی کیا۔

احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے کہا کہ "جنیوا کے دل میں، بروکن چیئر کے سائے تلے، بلوچ عوام کی آواز ایک بار پھر دنیا تک پہنچائی گئی”۔

بی این ایم نے اعلان کیا کہ وہ عالمی سطح پر اپنی مہم کو مزید تیز کرے گا۔

Share This Article