اسرائیل نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ تنگسیری آبنائے ہرمز کی بندش اور بمباری کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے براہ راست ذمہ دار تھے اور انھیں ’اڑا دیا گیا ہے‘۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ایرنی بحریہ کے متعدد دیگر سینئیر حکام بھی مارے گئے ہیں۔
ایران نے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کا قتل اسرائیل اور امریکا کے درمیان ’تعاون کی ایک اور مثال‘ ہے۔
عبرانی زبان میں جاری ایک ویڈیو پیغام میں، اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران بھر میں اہداف پر ’زبردست حملہے‘ کر رہا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ’اس شخص کے ہاتھوں پر بہت زیادہ خون تھا۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے اور ہمارے دوست، امریکہ کے درمیان جنگ کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے طرف تعاون کی ایک اور مثال ہے۔‘
علی رضا تنگسیری 2018 میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر مقرر ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ 2010 سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ ڈپٹی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
علی رضا تنگسیری سے منسوب ایک ایکس اکاؤنٹ رواں ماہ کی تاریخ سے فعال ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاق ان کے اس کاؤنٹ سے جاری کیے جانے والے بیانات کا حوالہ دیتے ہیں۔
اس کاؤنٹ سے وہ کئی بار آبنائے ہرمز کے بارے میں بیان جاری کر چکے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ایران کے خلاف جارحیت کرنے والوں سے وابستہ کسی بھی جہاز کو وہاں سے گزرنے کا حق نہیں ہے۔‘
تنگسیری ماضی میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کئی بیانات دے چکے ہیں۔
2019 میں انھوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کی تیل کی برآمدات میں خلل پڑا تو آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا۔
2019 میں ایران کی جانب سے آبنائے کے قریب نگرانی والے ایک امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کے دیگر کمانڈروں کے ہمراہ تنگسیری پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔