بلوچستان حکومت کے کٹھ پتلی وزیر واسا عبدالرحمان کھیتران نے سومار کے دن بلوچستان اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیڈ گورننس کی وجہ سے دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بی ایل اے پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یومیہ کوئلہ کانوں سے 40 لاکھ روپے بھتہ وصول کرتی ہے جو جناح روڈ پر واقع نجی بینک میں ان کے اکاونٹ میں جمع ہوتے ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ بلوچستان میں گڈ گورننس نہیں ہے،بی ایل اے اپنی رٹ قائم کرنا چاہتا ہے، عوام میں خوف وہراس پید اکرنا چاہتی ہے۔ بارکھان میں نہیں بلکہ موسیٰ خیل میں بی ایل اے کا کیمپ موجود ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم عوامی نمائندہ سفر کرتے ہیں تو ہم بھی گھبرا تے ہیں،حکومت کو رٹ قائم کرنے ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حالات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اگر ہم نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی تو کل کو یہی تنظیمیں اٹھ کر فیصلہ کریںگی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ اگر کسی کی ایک مرغی بھی مرجائے تو کہرام مچھ جاتا ہے لیکن یہاں 21 لوگوں کوقتل کیا تا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی میں مذمت کرتا ہوں ۔بلوچستان میں بیڈ گورننس ہیں، بلوچستان میں حکومت کی رٹ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہعسکری تنظیمیں خوف وہراس پھیلا کر لوگوں سے زبردستی بھتہ وصول کرتے ہیں۔ حکو مت کو چاہیے کہ وہ ان کے خلاف بھر پور کارروائی کریں ۔اگر یہی سلسلہ رہا تو پھر حکومت کے بجائے تنظیموں کے رٹ بلوچستان میں قائم ہوگی۔