اساتذہ نجمہ بلوچ کو خود کشی پر مجبور کرنے والے لیویز اہلکار کو ہلاک کردیا، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں آواران میں اساتذہ نجمہ بلوچ کو خود کشی پر مجبور کرنے والے لیویز اہلکارنوربخش کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 11 اکتوبر بروز ہفتہ تنظیم کی انٹیلی جنس ونگ کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے آواران کے علاقے گیشکور محراب بازار میں قابض پاکستانی ملٹری انٹیلی جنس کے سرگرم کارندہ و لیویز سپاہی نوربخش ولد عبدالحق سکنہ زیک گیشکور کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، جبکہ سرمچاروں نے ان کے اسلحہ سمیت موٹر سائیکل ضبط کرلیے۔

ان کاکہنا تھا کہ قومی مجرم سالوں سے گیشکور بازار اور گردونواح کی آبادی میں باقاعدہ خفیہ معلومات کے لیے لوگوں کو کام کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اسی شخص نے ہی نجمہ بنتِ دلسرد (جو کہ ایک اسکول ٹیچر تھی) کو پاکستانی فوج کے لیے کام کرنے کی پیشکش کی تھی، مگر جب نجمہ بلوچ نے اس گھناؤنی جرم کے ارتکاب سے یکسر انکار کردیا تو اس کے ردعمل میں ان پر شدید ذہنی دباؤ ڈالا گیا جس کے نتیجے میں وہ 15 مئی 2023 کو خودکشی کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

بیان میں کہا گیا کہ نجمہ کے خاندان نے قابض پاکستان کے بے سود آئینی اور قانونی طریقہ اپناتے ہوئے ملزم نوربخش اور اس کے ساتھیوں کو وقتی طور پر گرفتار کرایا تاہم انہیں چند ماہ بعد خفیہ اداروں کی جانب سے رہا کرا لیا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ لوگوں کے استحصال میں سرگرم ہو گیا اور بلوچ سرمچاروں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے سمیت سماجی برائیاں پھیلانے لگا۔

میجر گھرام بلوچ نے کہا کہ بی ایل ایف اپنی قوم کو یقین دلاتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے قاتلوں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔ ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جو بھی شخص بلوچی روایات کو روند کر قومی تحریک کے خلاف دشمن کے مذموم عزائم کا حصہ بنے گا، اس کا احتساب جلد یا بدیر ضرور کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ ہم بلوچ مرد و خواتین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت نوربخش جیسے قومی مجرموں کی نشاندہی کریں اور ان کے بلیک میلنگ کی کوششوں سے ہرگز دباؤ میں نہ آئیں، ایسا نہ ہو کہ آپکی خاموشی نجمہ جیسی کسی اور باصلاحیت بلوچ بیٹی کی جان لے لے۔ یہ جنگ کسی فرد واحد کی جنگ نہیں، بلوچ قوم کے مستقبل، بقا اور شناخت کی عظیم جنگ ہے۔ اس کی مکمل کامیابی کے لیے اس میں ہر طبقے کی بھر پور وابستگی ضروری ہے۔ لہذا بلوچ قوم کے ہر طبقے کو چاہیے کہ ہر طرح سے قومی تحریک میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس جنگ میں فتح ہماری ہی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ قومی مجرم کی ہلاکت کی زمہ داری قبول کرتی ہے اور سرزمین کی آزادی تک قابض فورسز اور اس کے ہمناؤں کو نشانہ بناتی رہیگی۔

Share This Article
Leave a Comment