فوزیہ بلوچ کی گھر میں پریس کانفرنس: جبری لاپتہ بھائی کی رہائی بی وائی سی سے لاتعلقی سے مشروط

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما فوزیہ بلوچ نے اپنی والدہ کے ہمراہ کراچی میں اپنے گھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی ادارے ان کے جبری لاپتہ بھائی داد شاہ بلوچ کی بازیابی کے بجائے خاندان کو ہراساں اور سیاسی دباؤ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

فوزیہ بلوچ نے کہا کہ ان کے بھائی داد شاہ بلوچ کو 21 اپریل 2026 کو سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں نے کراچی میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر جبری طور پر لاپتہ کیا۔

ان کے مطابق تقریباً بیس سے پچیس مسلح اہلکار، جو سادہ لباس میں ملبوس تھے، دو پولیس موبائلز، ایک بلیک ویگو اور ایک سفید آلٹو گاڑی میں آئے اور گھر میں داخل ہو کر تشدد کے بعد داد شاہ بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب اہلخانہ نے واقعے کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو ان کے بڑے بھائی کو بھی ساتھ لے جانے کی دھمکیاں دی گئیں۔

فوزیہ بلوچ کے مطابق اہلکاروں سے وارنٹ اور قانونی جواز طلب کیا گیا مگر انہوں نے کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور صرف تھانے سے رابطہ کرنے کا کہا۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد اہلخانہ قریبی پولیس اسٹیشن گئے جہاں انہیں چوبیس گھنٹے بعد آنے کا کہا گیا، جبکہ بعد ازاں ماڑی پور پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کروانے کے باوجود انہیں رسید فراہم نہیں کی گئی۔

ان کے مطابق پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز دی جسے اہلخانہ نے مسترد کر دیا کیونکہ وہ خود واقعے کے چشم دید گواہ ہیں اور پولیس موبائلز کی موجودگی دیکھی گئی تھی۔

فوزیہ بلوچ نے کہا کہ داد شاہ بلوچ اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں اور اس دوران انہیں شدید تشدد اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی سیاسی سرگرمیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی سے وابستگی کی وجہ سے ان کے خاندان کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 25 اپریل کو جب وہ پریس کانفرنس کے لیے کراچی پریس کلب پہنچیں تو پولیس نے پریس کلب کے اطراف ناکہ بندی کر رکھی تھی اور انہیں پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی گئی۔

ان کے مطابق واپسی پر پولیس نے راستے میں روک کر ان، ان کی والدہ اور دیگر اہلخانہ کو تشدد کے بعد گرفتار کر لیا اور ان پر جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔

فوزیہ بلوچ نے کہا کہ ان کی والدہ بلند فشار خون کی مریضہ ہیں مگر دوران حراست انہیں ادویات تک فراہم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ذرائع سے انہیں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیں تو ان کے بھائی کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ریاست شاید یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ہمیں خوفزدہ کیا جا سکتا ہے، مگر ہم اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

فوزیہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف ان کی جدوجہد صرف ان کے خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں بلوچ خاندانوں کی اجتماعی آواز ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور باشعور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی آواز بنیں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔

انہوں نے ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ داد شاہ بلوچ کو فوری طور پر بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔

Share This Article