شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کیلئے پاکستان کے دارلحکومت کو سیل کرنیکی تیاریاں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان میں شنگھائی تعاون کی تنظیم( ایس سی او) کی دورزہ اجلاس منگل کو شروع ہونے والی ہے ،اجلاس کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی میں تین روزہ عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

حکومت نے اس اجلاس کے موقع پر حفاظتی انتظامات کے تحت فوج کو بھی تعینات کر رکھا ہے۔

پاکستان میں شنگھائی تعاون کی تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے دو روز قبل یعنی آج بروز اتوار دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے تحت شہر کو عام شہریوں اور ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یہ اہم اجلاس ایک ایسے وقت پر منعقد کیا جا رہا ہے، جب ملک کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے تشدد اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر، روسی وزیر اعظم میخائل میشوسٹن اور چینی وزیر اعظم لی چیانگ منگل اور بدھ کو منعقد کیے جانے والے اس اجلاس میں شرکت کرنے والے سینئر علاقائی حکومتی عہدیداروں میں شامل ہوں گے۔

اس سے قبل حکومت نے اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، پشتون قوم پرست تحریک پی ٹی ایم پر پابندی اور دارالحکومت میں احتجاج کو محدود کرنے والے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں۔

حکومت نے رواں ماہ کے شروع میں اسلام آباد میں مارچ کرنے کی کوشش کرنے والی اور جیل میں اسیر اپوزیشن لیڈر عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینکڑوں حامیوں کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی میں چینی انجینئرز کے قافلے پر بی ایل اے کے ہونے والے مہلک حملے نے ایک ایسے ملک میں سکیورٹی سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا تھا، جہاں آزادی پسند گروپ چینی شہریوں کو عام طور پر نشانہ بناتے آئے ہیں۔

حکومت نے پہلے ہی ایس سی او سمٹ کے دوران حفاظتی انتظامات کے تحت فوج تعینات کر رکھی ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کار اور اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز گل کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس ایک ایسے ملک کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے جسے محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔‘‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے وسیع تر حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور یہ سمجھ میں بھی آتا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ اجتماع بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے پرامن طریقے سے منعقد ہو سکے۔‘‘

شنگھائی تعاون کی تنظیم میں چین، بھارت، روس، پاکستان، ایران، قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مزید سولہ ممالک مبصر یا ڈائیلاگ پارٹنرز‘ کے طور پر بھی اس تنظیم سے وابستہ ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment