دکی میں پشتون قتل عام کی مذمت کرتے ہیں، ذمہ دار پنجابی فوج ہے ، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں دکی میں 21کائلہ کان کنوں کی قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی دکی میں ۲۱ پشتون مزدوروں کے قتل عام کی مذمت کرتا ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ اس اندوہناک واقعے سے ہماری تنظیم کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ قتل عام پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے ان مکارانہ منصوبوں کا حصہ ہے، جس کے تحت برادر اقوام بلوچ و پشتون کو آپس میں دست و گریبان کرنے کی سازش رچائی جارہی ہے۔ بی ایل اے واضح الفاظ میں اس قتل عام کا ذمہ پنجابی ریاست پاکستان کو ٹہراتی ہے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ دشمن سے ان بیگناہوں کے قتل عام کا حساب ضرور لیا جائے گا۔ بلوچ و پشتون اقوام مشترکہ دشمن کے خلاف ایک محاذ پر مزید منظم ہونگے اور جلد یا بدیر پنجابی ریاست کو شکست فاش دینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے سامی اور تربت میں دو مختلف حملوں میں قابض فوج اور ایک فوجی مخبر و آلہ کار کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گذشتہ شب کیچ کے علاقے سامی میں قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو ایک حملے میں نشانہ بنایا، سرمچاروں نے گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے اور خودکار ہتھیاروں سے دشمن فوج کو نشانہ بنایا۔ حملے میں کم از کم تین دشمن اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ انہیں مزید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

دریں اثناء آج ایک اور کاروائی کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے تربت شہر کے مچھلی مارکیٹ کے قریب ایک حملے میں پاکستانی فوج کے آلہ کار ملا یعقوب عرف قریشی کو ہلاک کردیا۔

مذکورہ فوجی آلہ کار مصالحہ فروش کے بھیس میں پاکستان فوج کے ملٹری انٹیلیجنس (ایم آئی) کیلئے مخبری کا کام سرانجام دے رہا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ملا یعقوب عرف قریشی کو ایم آئی دفتر جانے سمیت شہر میں قابض فوج کی جارحیت کے دوران فوج کے ہمراہ دیکھا گیا تھا۔ تربت شہر و گردنواح میں مذکورہ شخص قابض فوج کیلئے مخبری کرنے سمیت دشمن فوج کے لیے مخبر بھرتی کرنے کا بھی کام سرانجام دے رہا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ قابض فوج کی بلوچستان سے مکمل انخلاء تک ہماری جنگ جاری رہیگی۔

Share This Article
Leave a Comment