بلوچستان کے علاقے خاران میں آبادی کے اندر گھر گھر سرچ آپریشن کے نام سے پاکستانی فوج 3 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاران میں جنگل ایریا کلی رحمت اللہ میں فورسز نے گھروں پر چھاپہ مار کر 3 افراد کو حراست میں لیکر کیمپ منتقل کردیا ہے۔
جبری لاپتہ کئے جانے والے افراد کی شناخت ارشاد ولد امین اللہ ، دائود ولد محمد انور اور امین اللہ ولد عبدالقادر کے ناموں سے ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران فورسز کے اہلکار خلیل نامی ایک اور شخص کو بھی تلاش کررہے تھے، جبکہ وہ بچنے میں کامیاب ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کے کم از کم بیس گاڑیوں پر مشتمل کانوائے نے علاقے کو گھیرے میں لینے کے بعد مذکورہ افراد کو جبراً حراست میں لے لیاتھا۔
علاقائی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے افراد میں سے دو سرنڈر شدہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد نے رواں سال پاکستانی فوج کے سامنے سرنڈر کردیا تھا جسکے بعد خاران ایف سی کے کرنل سمیت انٹیلی جنس ادارے انہیں متواتر ہراساں کررہے تھے کہ وہ بلوچ قومی تحریک کے خلاف کام کریں۔