بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں ایک مسلح جھڑپ میں 2 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے ۔
واقعہ ضلع بارکھان اور ڈیرہ بگٹی کے سرحدی علاقے اوچھڑی میں پیش آیاجہاںمسلح افراد اور مقامی سرکاری قبائلی فورس کے درمیان فائرنگ کے باعث قبائلی فورس کے 2 اہلکار ہلاک جبکہ 5 زخمی ہوگئے ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ رات بھر جھڑپ جاری اور فائرنگ سے پورا علاقہ گونجتا رہا۔
بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے چچازاد بھائی حاجی خان محمد مسوری بگٹی کے مطابق اوچھڑی میں مسلح افراد کی جانب سے نجی کمپنی کے موبائل ٹاور کو دھماکا خیز مواد سے اڑانے کے بعد علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع پر مقامی سرکاری قبائلی فورس کے اہلکاروں نے مسلح افراد کا تعاقب کیا تو مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کی زد میں آکر سرکاری قبائلی فورس کے 2 اہلکار ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے ۔
جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ایک موبائل ٹاور کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا تھا۔ جس کے بعد مذکورہ علاقے میں سرفراز بگٹی کے بھائی اور ڈیتھ اسکواڈ سرغنہ آفتاب بگٹی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کے پیچھے گئے تاہم پہلے سے مورچہ زن مسلح افراد نے ان پر حملہ کردیاتھا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈیرہ بگٹی ڈاکٹر اعظم جان بگٹی کے مطابق زخمی اہلکار وں کو فوری طور پر بذریعہ سرکاری ایمبولینس علاقہ رکھنی کے ہسپتال ریفر کردیا گیا ۔
جبکہ ذرائع کے مطابق آخری اطلاعات آنے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔
ہلاک اور زخمیوں کی تصدیق سرفراز کے کزن حاجی خان محمد بگٹی نے ایک وڈیو بیان میں کیا ہے۔
جھڑپوں میں سرفراز بگٹی کے بھائی آفتاب کے بھی زخمی ہونے کی افواہیں ہیں تاہم آزاد زرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
اب تک حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبل نہیں کی ہے۔