بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گھرام بلوچ نےمیڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں خاران میں پاکستانی فورسز پربم حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے خاران شہر میں ایف سی کی گاڑی کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا جس سے دو ایف سی اہلکار شدید زخمی ہوئے۔
انہوںنے کہا کہ بائیس ستمبر بروز اتوار بوقت بارہ بجے یہ کامیاب کاروائی سر انجام دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دشمن کی جدید ٹیکنالوجی، جدید کیمروں اور جدید مشینری کی موجودگی کے باوجود حساس علاقوں میں سرمچاروں کی کامیاب کارروائیاں ان کی مؤثر جنگی حکمت عملی کا واضح ثبوت ہیں، جس نے نہ صرف دشمن کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ شدید ذہنی دباؤ کے باعث وہ عام عوام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بی ایل ایف کی کامیاب حکمت عملیوں نے دشمن کو اس حد تک حواس باختہ کر دیا ہے کہ اپنی شکست اور شرمندگی (انفعال) کو چھپانے کے لیے وہ سوشل میڈیا پر چند کرائے کے افراد کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کے خلاف سفسطہ پھیلا کر حقیقت مسخ کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔
انہوںنے کہا کہ ہم اس حملے میں عوامی نقصانات پر اظہار افسوس کرتے ہیں اور عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ دشمن فورسز اور ان کے تنصیبات سے دور رہیں ہمارے سرمچار کسی بھی وقت انہیں نشانہ بناسکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل ایف خاران حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور آزاد بلوچستان کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔