پاکستانی فورسز کے ہا تھوں گذشتہ 9 سالوں سے جبری لاپتہ مہر گل مری کے اہلخانہ نےآج بروز ہفتہ کوبلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں ایک پریس کانفرنس کی ۔
پریس کانفرنس میں وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما وقدیر اور مہر گل مری کے اہلخانہ کے دیگر افرادموجود تھے ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہر گل مری کے ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ میرے بھائی مہر گل مری کوآج سے نو سال پہلے سرکاری اداروں کی طرف سے لا پتہ کیا گیا تھا اور ان کا تا حال کوئی خبرنہیں ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کے لاپتہ ہونے کے خلاف کیس کیا اور عدالت نے حکم دیا کے MJ اور FC جلد از جلد مہر گل مری کو بازیاب کریں لیکن بدقسمتی سے عدالت کے حکم کو ہوا میں اڑاد یا گیا اور تا حال میرے بھائی کا کچھ پتہ نہیں ہے۔
لاپتہ مہر گل مری کے ہمشیرہ نے کہا کہ میرے بھائی پیشے سے زراعت میں 18 گریڈ کے آفیسر تھے اور وہ ڈیرہ بگٹی میں اپنی فرائض سرانجام دے رئے تھے ۔
انہوںنے کہا کہ ہم نے اپنے بھائی کی بازیابی کے لئے ہر ایک دروازہ کٹ کھٹا یا ۔ہم نے ریڈ زون میں بارشوں کے باعث مسلسل 40 دن تک ان کی بازیابی کے لئے دھرنا دیا لیکن تاحال ان کا کچھ پتہ نہیں ۔
لاپتہ مہر گل مری کے ہمشیرہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا ہم نے دو بارہ اسلام آباد میں بھی دھرنا دیا مگر وہاں ہمیں ذلت کے علاوہ کچھ حاصل نہیںہوسکا ۔
آخر میں انہوںنے پاکستان کے تمام سکیورٹی اداروں کے سربراہان خاص کر ڈی جی MI ،ڈی جی ISI اور آرمی چیف سے اپیل کی اس کے بھائی مہر گل مری کو بازیاب کریں اور ہمیں اس طویل غم سے نجات دلائے۔