بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میںکیچ اور پنجگور حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے کیچ اور پنجگور میں دو مختلف حملوں میں قابض فوج اور پولیس فورس کو نشانہ بنایا۔
انہوںنے کہا کہ 9 ستمبر کی رات ساڑے آٹھ بجے سرمچاروں نے کیچ کے علاقے گورکوپ میں قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر متعدد اے ون گولے فائر کئے جو کیمپ کے اندر گرے، اس کے بعد سرمچاروں جدید و بھاری ہتھیاروں سے کیمپ کو نشانہ بنایا جس سے دشمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
بیان میں کہا گیا کہ جبکہ ایک اور حملے میں سرمچاروں نے 8 ستمبر بروز اتوار پنجگور کے علاقے جتکان میں پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا جس کی زد میں آکر پولیس سب انسپکٹر شکیل احمد ہلاک ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بلوچ قوم کا وطن ہے اور وطن کے حقیقی فرزند سرزمین پر پاکستانی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کے ذریعے پاکستانی فوج کو ذہنی،جسمانی و نفسیاتی شکست سے دو چار کرچکے ہیں جس کی وجہ سے شکست خوردہ فوج عام آبادیوں اور نہتے عوام کو نشانہ بناتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پولیس کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ سرمچاروں کا تعاقب کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر ان کا انجام بھی دشمن فوج جیسا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بی ایل ایف ان دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، آزاد بلوچستان کے حصول تک حملے کرنے کا عزم کرتی ہے۔