بلوچستان میں پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ ریاستی ظلم وجبر کو چھپانے کیلئے ہر سیاسی وبولنے کے عمل پر مکمل قدغن لگانے کیلئے ہرطرح کے ہتھکنڈوں میں اتر آئی ہے ۔
بلوچستان سے اب تک 3 ہزار سے زائد افراد کومسلح تنظیموں سے تعلق کے الزام میں ان کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیاگیا اور جن میں طلبا، سیاسی و سماجی کارکنان سمیت اساتذہ ودیگر سرکاری ملازم شامل ہیں۔
عسکری اسٹیبلشمنٹ بلوچستان میں جبری گمشدگیو ں و ماورائے عدالت قتل کے جعلی کارروائیوں کے خلاف اٹھنے والی موثر آوازوں کو مکمل خاموش کرنے اور منظم احتجاجی دھرنوں و مظاہروں کی تدارک کیلئے طرح طرح کی قانونی و غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
غیر قانونی مقدمات ، دھمکانے وسرکاری ملازمتوں سے فارغ کرنے کے اقدامات کے بعد بلوچستان میں بچوں کو جلسے جلوسوں پر شرکت سے روکنے کیلئے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کوبھی آن بورڈ لیا گیا ہے تاکہ احتجاجی مظاہروں ، ریلی اور دھرنوں کو روکا جاسکے جس میں بچون کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں گذشتہ روزپیر کے دن مسلم لیگ ن کے رکن بلوچستان اسمبلی پارلیمانی سیکرٹری سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی کی زیر صدارت بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کا چوتھا اجلاس سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن کمیشن نے بلوچستان بھر میں بچوں کو جلسے و جلوس میں استعمال کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ربابہ بلیدی، پارلیمانی سیکرٹری ہادیہ نواز، رکن صوبائی اسمبلی سنجے کمار، صوبائی سیکرٹری عبدالرحمن بزدار، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عبدالروف بلوچ، ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر شجاعت علی کھوسہ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سعیدہ منان، ڈپٹی ڈائریکٹر ناصر علی بلوچ امجد لاشاری، عبدالعلی و دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی سطح پر مکمل فعالیت، چائلڈ میرجز ریسٹرینڈ بل 2024، چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2016کے رولز برائے 2024سمیت دیگر ایجنڈے زیر غور آئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان حکومت بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ بلوچستان غریب صوبہ ہے۔بلوچستان کے عوام و ملک کے بہتر مفاد میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، وہ بچے جو کسی قسم کی زیادتیوں کے شکار ہوتے ہیں ان کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
کمیشن کی سفارشات وزیر اعلی بلوچستان کی بھیجی جائیں، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کی مکمل فعالیت سے تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی، بچوں کی سیاسی مقاصد جلسے جلوس کیلئے استعمال قابل مذمت ہے ہمیں اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے، جلسے جلوس میں بچوں و خواتین کو ڈھال بنایا جاتا ہے جس کی وجہ سے حکومت اقدامات اٹھانے سے قاصر رہتی ہے۔
بلوچستان قبائلی صوبہ ہے، چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کا اجلاس ہر تین ماہ میں ہونی چاہیے تاکہ بچوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ ہوں کہ کمیشن نے کتنا کام کیا ہے۔ سیکرٹریز اپنے طور پر محکموں میں آگاہی کیلئے کام کرے، بلوچستان قبائلی صوبہ جہاں خواتین اپنے ساتھ ناانصافیوں کو آگے نہیں لا سکتے ہمیں ان خواتین کے ساتھ ظلم کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کے ساتھ آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان چائلڈ پروٹیکشن کمیشن 20161 کے ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن باضابطہ طور پر 20182 میں وجود میں آیا۔ یہ بلوچستان حکومت کے محکمہ سماجی بہبود کے اندر کام کرتا ہے اور بلوچستان میں بچوں کے حقوق اور بہبود کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
مذکورہ کمیشن کاکام بچوں کے تحفظ کے قوانین کا نفاذ ہے ، بلوچستان میں چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کو یقینی بنانا۔ ضرورت مند بچوں کو مدد اور خدمات کی پیشکش کرنا، بشمول وہ لوگ جو قانون سے متصادم ہیں۔ مختلف مہمات اور اقدامات کے ذریعے بچوں کے حقوق اور تحفظ کو فروغ دینا۔بچوں کے تحفظ میں شامل عملے اور اسٹیک ہولڈرز کو تربیت اور لیس کرنا۔
لیکن جب بلوچستان میں فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کا ایک انسانی المیہ جنم لیتا ہے جس میں زیادہ تر متاثر بچے وخواتین ہوتے ہیں تو ان بچوں کے حوالے سے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن مکمل خاموش ہے۔اور اب جبری گمشدگیوں کیخلاف وہ بچے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاجی مظاہروں ، جلسہ جلسوں کا حصہ بنتے ہیں تو کمیشن کو 2 دھائیوں بعد اب چائلڈ پروٹیکشن کاخیال آیا ہے ۔
کمیشن نے بچوں کے جلسے جلوسوں میں شرکت کے اصل مسئلے کے خاتمے کو نذرانداز کرکے دو دھائیوں دوران کوئی بھی ایسا بیان جاری نہیں کیا کہ ان کے پیاروں کی جبری گمشدگیوں کہ وجہ سے وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔
اب مذکورہ کمیشن کو عسکری اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر بچوں کو جلسے جلوسوں میں روکنے کیلئے مکمل طور پر استعمال میں لایا جارہا ہے۔دوسری طرف ریاست جبری گمشدگیوں کو روکنے کیلئے کسی طرح بھی تیار نہیں ہے لیکن جب کسی کا پیارا فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوتا ہے تو اس کے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن قانون کی آڑ میں سڑکوں پر آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی جس کا مقصد ان کی پروٹیکشن بالکل نہیں بلکہ بلوچستان میں ریاستی مظالم کیخلاف عوامی احتجاج کا راستہ روکنا ہے ۔