ایران کا پاکستان پر 18 ارب ڈالر جرمانے کیلئے عالمی عدالت جانے کا عندیہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کی جانب گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ایران اس سلسلے میں پیرس کی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مقامی زرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے پاکستان کو معاہدے پر عمل نہ کرنے کے سے متعلق آخری نوٹس بھی بھیج دیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران منصوبے پر عمل درآمد نہ ہونے پر پاکستان کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں 18 ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا عندیہ دے چکا ہے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے گیس پائپ لائن کے بارے میں ایران کے نوٹس سے متعلق سوال پر کہا کہ یہ معاملہ وزارتِ پٹرولیم سے متعلق ہے البتہ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد تہران کے ساتھ تمام امور دوستانہ بات چیت سے حل کرنا چاہتا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں گیس پائپ لائن کا معاملہ زیر بحث آنے کے باوجود وزارتِ پٹرولیم نے اس بارے میں کوئی ردِعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کا معاہدہ 2010 میں ہوا تھا۔ تقریباً 1900 کلومیٹر طویل پائپ لائن کا مقصد پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 25 سال تک 75 کروڑ سے ایک ارب کیوبک فٹ یومیہ قدرتی گیس فراہم کرنا تھا۔

ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کئی برسوں سے التوا کا شکار ہے۔

اس معاہدے کے مطابق ایران کے جنوبی فارس گیس فیلڈ سے پاکستان کے بلوچستان اور سندھ کے صوبوں تک پائپ لائن کی تعمیر ہونا تھی لیکن امریکی پابندیوں کے خدشات کی وجہ سے پاکستان کے حصے میں اس منصوبے پر کام رکا ہوا ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں پائپ لائن کی تعمیر کے لیے دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ تاہم پاکستان نے ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کے پیش نظر اپنے علاقے میں تعمیر شروع نہیں کی۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی مسائل اور خطے میں سفارتی مشکلات کا شکار ہے ایران کا 18 ارب ڈالر کے ہرجانے کے لیے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا عندیہ اسلام آباد کی دشواریوں میں میں اضافہ کرسکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سنجیدہ جواب اور عملی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ایران ثالثی عدالت میں جانے کا جواز رکھتا ہے۔

ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے اسلام آباد میں نمائندے افضل رضا کہتے ہیں کہ ایران نے ثالثی عدالت جانے کا سنجیدہ فیصلہ کیا ہے تاہم دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی وزارت پٹرولیم اس صورتِ حال میں کیا اقدامات کرتی ہے۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایران کی جانب سے لکھے گئے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ دونوں ملک خاموشی سے معاملے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ایران کے لیے معاشی اعتبار سے اب یہ گیس پائپ لائن زیادہ فائدہ مند نہیں رہی تاہم تہران قانونی و سیاسی بنیادوں پر اسے مکمل کرنا چاہتا ہے۔

افضل رضا نے کہا کہ قانون کے مطابق اگر ایران ستمبر 2024 تک معاملہ ثالثی عدالت میں نہیں بھیجتا تو وہ پاکستان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا حق کھو دے گا۔

ایرانی حکام نے تاحال گیس پائپ لائن سے متعلق ایران کی طرف سے پاکستان کو آخری نوٹس دینے کی خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

تہران میں مقیم صحافی آر اے سید کہتے ہیں کہ ایران گیس پائپ لائن میں تاخیر کا معاملہ ضرور فرانس کی ثالثی عدالت میں لے کر جائے گا۔

انہوں نے وائس آف امریکہ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران پوری قوت سے 18 ارب ڈالر کے جرمانے کے حصول کا فیصلہ چاہے گا چاہے بعد ازاں وہ پاکستان سے اس معاملے پر سمجھوتا کر لے اور جرمانے کی رقم وصول نہ کرے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس تگ و دو کے بعد بھی گیس پائپ لائن کسی نتیجے پر پہنچتی دکھائی نہیں دیتی اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہوگی کہ جرمانے سے بھی بچ جائے اور گیس پائپ لائن کو بھی آگے نہ بڑھایا جائے۔

خیال رہے کہ رواں سال فروری میں پاکستان کی سبک دوش ہونے والی نگراں حکومت نے منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے اربوں ڈالر کے جرمانے سے بچنے کے لیے ایرانی سرحد سے ملحق پاکستانی علاقے میں پائپ لائن کا ایک چھوٹا سا حصہ تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی۔

تاہم مارچ میں اقتدار سنبھالنے والی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت نے ابھی تک اس منصوبے پر کام شروع نہیں کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment