امن و سلامتی قابض کے فطرت میں شامل نہیں ہوتا ہے- ڈاکٹراللہ نذر بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read


جدوجہد کا مقصد دشمن سے انصاف نہیں بلکہ قومی نجات اور منزل کا حصول ہے۔

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹراللہ نذر بلوچ نے کہا ہے کہ ایک جانب بلوچ قوم سانحہ ڈنک اور ایسے واقعات کے بنیادی محرک ریاست پاکستان کے پراکسی اور آلہ کار ڈیتھ سکواڈز کے خلاف سراپا احتجاج ہے تو دوسری جانب ڈیتھ سکواڈز کی کاروائیاں میں وہی تیزی برقرار ہے۔ میڈیا کی غیر موجودگی کی وجہ سے بلوچستان کی اکثر خبریں وہیں دم توڑتی ہیں۔ ایسے واقعات کے ذریعے پاکستان بلوچ قوم کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ ان احتجاجوں اور جمہوری جدوجہد سے ریاست کی جارحیت اور ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے بلوچ قوم کا قتل عام میں کوئی کمی نہیں لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کل ہی پیدارک میں لشکرخراسان کے علاقائی سربراہ سردار عزیز کے کارندوں نے ایک گھر پر دھاوا بولا۔ لوگوں پر بہیمانہ تشدد کی اور زیورات سمیت گھر سے تمام قیمتی سامان لوٹ کر لے گئے۔ سردار عزیز اور اس کے بیٹے شاہ میر عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کی شاخ لشکر خراسان کے کرتا دھرتا ہیں۔ انہیں پاکستانی ریاست، فوج اور خفیہ اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس گروہ نے گورکوپ، پیدارک، پسنی سمیت ساحلی بیلٹ میں متعدد نہتے اور معصوم لوگوں کا قتل اور بے شمار گھروں میں لوٹ مار کی ہے۔ علاقے میں سردار عزیز کا ڈیتھ اسکواڈ ملیشیا سرگرم اور لوگوں کی عزت اور جان و مال سے کھیل سے رہا ہے۔ اس ملیشیا کے علاقے میں متعددکیمپ قائم ہیں جہاں مذہبی جنونیت اور دہشت گردی کے لئے تربیت دی جاتی ہے جو بلوچستان سمیت خطے میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہورہے ہیں۔

ڈاکٹراللہ نذر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان بھر میں ڈیتھ سکواڈ سرگرم ہیں۔ ان علاقوں میں مشکئے، راگئے سمیت گردو نواح بھی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ڈیتھ ا سکواڈز نے ظلم کا بازار گرم کررکھاہے۔ 21مئی کو ان درندوں نے فوجی کیمپ سے کچھ ہی فاصلے پر مشکے النگی میں اظہر علی ولد اصغر علی نامی ایک طالبعلم بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ لوگوں نے آواز اٹھانا شروع کردیا تو پولیس نے لوگوں کی عارضی تسلی کے لئے ایف آئی آر درج کرلی اور تفتیش کا وعدہ کیا۔ لیکن چند دن بعد قابض فوج براہ راست ان درندہ قاتلوں کی تحفظ کے لئے سامنے آیا اور اہلخانہ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا اور ایف آئی آر واپس لینے پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیتھ سکواڈز کی جرائم اس حد تک بڑھ گئے کہ معصوم بچے، خواتین اور لوگوں کی عزت و آبرو کہیں بھی محفوظ نہیں۔ اگر کہیں نام
نہاد پاکستانی قانون حرکت میں آتا ہے تو اسے بھی فوج بندوق کی نوک پر رکھتاہے۔ یوں قانون سے مدد لینا لوگوں کے لئے اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوتاہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا میں واضح کرتاہوں کہ پاکستان اور پاکستانی نظام میں کوئی بھی خیر اور امن و سلامتی کی توقع نہ رکھے کیونکہ خیر اور امن و سلامتی قبضہ گیریت کے فطرت میں شامل نہیں ہے۔ البتہ پاکستان کسی زندہ اقدار کے حامل قوم کی ریاست ہوتی تو شاید ہماری عزت وآبرو کو اس طرح پائما ل نہ کرتا۔ لیکن پاکستان ایسے صفات سے محروم ایک سفاک درندہ ہے۔ لہٰذا قوم اپنی توانائیاں جدوجہد آزادی کے لئے صرف کرے کیونکہ آبرو مندانہ زندگی گرازنے کا واحد راستہ آزادی اور پاکستانی غلامی سے نجات میں مضمر ہے۔

Share This Article
Leave a Comment