صدارتی امیدوارکیلئے مجھے ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی مل گئی،جو بائیڈن

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

رواں برس نومبر میں امریکا میں صدارتی الیکشن کا انعقاد ہو گا۔ صدر ٹرمپ کو الیکشن میں سابق نائب صدر جو بائیڈن کا سامنا ہو گا۔

سابق نائب امریکی صدر جو بائیدن نے کہا ہے کہ پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے لیے انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے مطلوبہ ووٹ حاصل ہو گئے ہیں۔ اس نامزدگی کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے 1991 مندوبین کی حمایت لازمی ہوتی ہے۔ انہیں یہ مطلوبہ ڈیلیگیٹس کی حمایت پچھلے منگل کو ہونے والی پارٹی ووٹنگ میں ملی، اس انتخابی عمل کی ووٹنگ ابھی تک جاری ہے۔ اس کامیابی پر بائیڈن نے کہا کہ وہ اس منزل پر پہنچنے کو ایک اعزاز سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے حصول کے لیے انہیں انتہائی ذہین امیدواروں کا سامنا تھا۔

اس کا قوی امکان پہلے ہی تھا کہ جو بائیڈن کو پارٹی نامزدگی حاصل کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اس کی وجہ نامزدگی کی دوڑ میں شامل تمام بیس سے زائد امیدواروں کا مرحلہ وار اپنی مہم کو ختم کرنا بنا۔ ان کے سب سے قریبی حریف ریاست ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے بیرنی سینڈرز بھی دو ماہ قبل اپریل میں دستبردار ہو گئے تھے۔ مقابلے پر امیداور نہ ہونے کے باوجود پارٹی کا داخلی انتخابی عمل مکمل کیا گیا۔ پارٹی کے ریاستی انتخابات آن لائن ووٹنگ سے مکمل کیے گئے۔

اب پارٹی کے مرکزی کنوینشن میں جو بائیڈن کو باضابطہ صدارتی امیدوار بنائے جانے کی پیشکش کی جائے گی اور جواباً وہ اس نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے اپنے انتخابی منشور کے اہم نکات کو ایک تقریر میں بیان بھی کریں گے۔ یہ محض ایک رسمی کارروائی خیال کی جاتی ہے۔

کورونا وائرس کی پھیلی وبا کی وجہ سے ڈیمو کریٹک پارٹی کا کنوینشن تقریباً دو ماہ بعد اگست میں ورچوئل ہو گا اور ساری کارروائی آن لائن مکمل کی جائے گی۔ صدارتی انتخابات نومبر کے اوائل میں ہوں گے۔

رواں برس کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے کرائے جانے والے رائ¥ عامہ کے جائزوں میں جو بائیڈن کو موجودہ صدر ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔ ایک ادارے ریئل کلیئر پولیٹکس نے صدر ٹرمپ پر بائیڈن کی برتری 7.1 بتائی ہے۔ ماہرین کے مطابق پانچ ماہ بعد الیکشن کا انعقاد ہے اور ٹرمپ کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے اور سیاہ فام جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے بیانات کی وجہ سے غیر مقبولیت کا بھی سامنا ہے۔

ستتر سالہ جو بائیڈن اب اگلے دنوں میں اپنے نائب صدر کے نام کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے نائب صدر کسی خاتون کو بنانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ریاست کیلیفورنیا کی سابقہ اٹارنی جنرل کاملا ہیرس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ پچپن سالہ ہیرس کے والد جمیکا سے تعلق رکھتے ہیں اور انتہائی معتبر اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں اکنامکس کے تاحیات پروفیسر ہیں جبکہ والدہ سائنسدان ہیں اور ان کا تعلق بھارتی شہر چنئی سے ہے۔

Share This Article
Leave a Comment