بلوچ یکجہتی کمیٹی دہشتگردوں و جرائم پیشہ عناصر کی پراکسی ہے،آئی ایس پی آرکا الزام

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیااور الزام لگایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر کی پراکسی ہے‘۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان میں احتجاج سے متعلق سوال پر کہا کہبلوچستان میں حکومت کی رٹ برقرار ہے، واضح کردوں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی نام نہاد قیادت دہشت گرد تنظیموں اور جرائم پیشہ مافیاز کی پراکسی ہے، اس سے زیادہ نہ کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا الزام لگایاکہ اس پراکسی کو یہ کام ملا ہے کہ جو قانون نافذ کرنے والے ادارے، جو ایجنسیز جرائم پیشہ مافیا، اسمگلرز اور غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف کام کر رہے ہیں، انہیں بدنام کیا جائے، بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو متنازع بنایا جائے۔

اپنے الزام میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا طریقہ واردات بیرونی فنڈنگ اور بیانیے پر جتھا جمع کروِ، اس کے گرد معصوم شہریوں کو ورغلالاؤ، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرو، پتھراؤ کرو، آگ لگاؤ، بے جا مطالبات پیش کرو اور جب ریاست جواب دے تو معصوم بن جاؤ، اس کے ساتھ پھر انسانی حقوق کے نام پر ایجنڈا رکھنے والے ان کے حق میں آکر بولنا شروع کردیتے ہیں، یہ ہی وہ تماشہ ہے جس کو آپ نے گزشتہ دنوں گوادر میں دیکھا جس کا راجی مچی تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت نے انہیں مظاہروں کی اجازت دی، کہا آپ کا حق ہے لیکن سڑکیں جام نہیں کریں، طے شدہ جگہ پر آئیں بات چیت کریں، احتجاج کریں، انہوں نے کہا کہ ہم نے سڑکیں بلاک کرنی ہیں، ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچائیں گے، پھر آپ نے دیکھا کہ انہوں نے سڑکیں بلاک کیں، لوگوں کو تکالیف ہوئیں، زائرین پر پتھراؤ بھی ہوئے، آگ لگائی گئی، ایف سی پر حملہ کیا، ایک سپاہی کو ہلاک کیا، قانون نافذ کرنے والے اداوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا، ان کو لاشیں نہیں دیں جن کے لیے وہ آئے تھے۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ راجی مچی کے نیچے جو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی پراکسی ہے، یہ بے نقاب ہوئی، بلوچستان کے عوام نے اسے مسترد کیا، یہ ہے اس کی حقیقت، یہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے، یہ دہشت گردوں، جرائم پیشہ، غیر قانون کاروبار اور اسملنگ میں ملوث عناصر پراکسی ہے۔

واضع رہے کہ بلوچستان کی سڑکیں پاکستانی فورسز و بلوچستان حکومت کی ایما ہر بند ہیں۔اور پر امن مظاہرین پر ریاستی کریک ڈائون سے بلوچ راجی مچی کے اب تک 3 شرکا ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فورسز نے براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایاتھا۔ پورے بلوچستان میں کریک ڈائون جاری ہے اب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگوں گرفتار و لاپتہ کیا گیا ہے۔اور بی وائی سی کی قیادت کو پاکستانی فوج کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ دھرنا ختم کرو ورہ انہیں قتل کردیا جائے گا ۔ اب تک بلوچ نہتے مظاہرین نے 4 ایسے ریاستی ایجنٹ کو پکڑ لیا ہے جو مظاہرین کی روپ میں مظاہروں و دھرنوں میں شامل ہوگئے تھے جن کے پاس ریاستی فورسز کے کارڈ ز اور اسلحہ برآمد ہوا ہے اور انہوں اپنے ویڈیوز میں اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق فورسز سے ہے اور انہیں بی بی وائی سی قیادت کو قتل کرنے اور دھرنوں و مطاہروں کو ختم کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment