بلوچستان کے ساحلی شہر وسی پیک مرکز گوادر میں پاکستانی فوج نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر دھاوا بول دیا ہے۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق اس وقت دھرنا گاہ کو فورسز نے چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر بھرپور طاقت کا استعمال کرکے ڈاکٹر ماہ رنگ اور سمی دین کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کہا جارہا ہے کہ اس وقت دھرنا گاہ کے چاروں اطراف فورسز کی ایک بڑی تعداد تعینات ہے جو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور فائرنگ کی بھی کر رہی ہے جس کی سوشل میڈیا میں ویڈیو فوٹیج گردش کر رہی ہیں جہاں دیکھا جاسکتا ہے فورسز کی بڑی تعداددھرنا کے اطراف میں الرٹ و چوکس ہےکھڑاہے اور فائرنگ کی آوازیں بھی آرہی ہیں جبکہ تصاویر میں آنسو گیس کی شیل سے دھوا اٹھتا نظر آرہا ہے۔۔
اس سلسلے میں بی وائی سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فام ایکس پر اپنے آفیشل اکائونٹ میں ایک پوسٹ جار ی کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گوادر سے انتہائی افسوسناک خبر آرہی ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ایک بار پھر پڑی زیرر گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کے پرامن دھرنے پر حملہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پرامن شرکاء پر شدید اور اندھا دھند فائرنگ کی جا رہی ہے، آنسو گیس کی شیلنگ کی جا رہی ہے اور بہت سے شرکاء شدید زخمی اور گرفتار ہو رہے ہیں۔
بی وائی سی سے اقوام متحدہ وایمنسٹی سمیت صحافتی وانسانی حقوق اداروں سے پیل کی ہے کہ وہ گوادر میں ریاستی دہشت گردی اور بربریت کا نوٹس لیں کیونکہ اس وقت ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ آج صبح بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر داخلہ ضیا لانگو بھی گوادر پہنچ چکے ہیں۔ جس کے پہنچتے ہی گوادر کے حالت انتہائی خراب ہوگئے ،جہاں مظاہریں پر فورسز کی جانب سے فائرنگ اور آنسو گیس کے استعمال کے اطلاعات موصول ہوئے ہیں۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز بلوچ اجتماع سے ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے اعلان کی تھا کہ جب تک راجی مچی کے گرفتارولاپتہ شرکا کو رہا نہیں کیا جاتا دھرنا گوادر میں پدی زر کے مقام پر جاری رہے گا۔