بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے دھرنے پر پاکستانی فورسز نے رات گئے دھاوابول کر50 سے زائد افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس کی تصدیق سوشل میڈیا پر اپنے ایکس آفیشل اکائونٹ سے کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے احتجاجی دھرنے پر حملہ کرکے 12 خواتین اور 50 سے زائد مرد مظاہرین کو اغوا کرلیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔ ریاستی ادارے بلوچ عوام کے خلاف مظالم کی ایک اور تاریخ رقم کرتے ہوئے پرامن آوازوں کو بے دردی سے دبا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا بلوچ راجی مچی پر ریاستی وحشیانہ کریک ڈاؤن کے خلاف دیا گیا۔ جب مظاہرین انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے، وہ خود ایک فاشسٹ ریاست کا نشانہ بن گئے۔