گوادر میں فورسز ہاتھوں شہید کی لاش غائب ،دھرنا گاہ کو محاصر ے میں لے لیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں گذشتہ روزبلوچ راجی مچی کے انعقاد کے دوران اکٹھے ہونےو الے نہتے عوام پرپاکستانی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے ۔

قومی اجتماع سے جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ہم گوادر میں فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے شخص کی لاش کو اجتما ع میں لیکر آئیں تو اس کے بعد اسپتال سے لاش کو غائب کردیا گیا ہے ۔

اس سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بلوچ راجی مچی کے شرکاء میں سے ایک کو ایف سی نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ شدید کریک ڈاؤن کے دوران نیم فوجی دستے اس کے بعد فورسز نے اس کی بے جان لاش کو اسپتال سے چھین لیا جو کہ انتہائی پریشان کن ہے۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1817681861730013317

اب کا کہنا تھا کہ فورسز کی جانب سے ہونے والی افراتفری کے باعث متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی لاش واپس کی جائے، تاکہ میت کی شناخت کی جائے اور مزید رسمی رسومات کے لیے اسے لواحقین کے حوالے کیا جائے۔

بی وائی سی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز کنڈ ملیر میں پاکستانی فورسز نے بلوچ راجی مچی کراچی کے پرامن کاروان پر فائرنگ کی۔ سیکورٹی فورسز نے کارواں کو زبردستی واپس موڑ دیا۔ جواب میں کارواں نے زیرو پوائنٹ پر دھرنا شروع کر دیا ہے اور جب تک بلوچوں کو گوادر میں راجی موچی میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی، زیرو پوائنٹ بلاک کر دیا جائے گا۔

بی وائی سی کے آرگنائزر ڈاکٹر ماہنگ بلوچ نے گوادر میں پدی زِر(میرین ڈرائیو )پر بلوچ راجی مچی سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ قوم کے درمیان اتحاد پر زور دیا۔

https://twitter.com/BalochYakjehtiC/status/1817619063520039155

اس نے کہا، "بہت ہو گیا، بلوچ آپ کے ظلم سے تنگ آچکے ہیں اور اس نسل کشی اور اپنے وسائل اور سمندروں کے استحصال کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔” اس نے ظالموں کو واضح پیغام دیا کہ ان کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

بی وائی سی نے رات گئے ایک ویڈی فوٹیج جاری کی ہے جس میں فورسز کی لمبی قطار میں گاڑیاں دیکھی گئی ہیں۔جس پر بی وائی سی کا کہنا ہے کہ بلوچ راجی مچی کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر ممکن جابرانہ ہتھیار استعمال کرنے کے بعد ریاستی ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔ اب ایف سی کی بھاری نفری نیم فوجی دستے میرین ڈرائیو کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک اور کریک ڈاؤن کی تیاری کر رہے ہیں۔ پہلے سے محصور گوادر کی صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ بے حس نسل کشی کرنے والی قوتیں ایک اور خونریزی کا آغاز کر رہی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment