گوادر سے نامہ نگار سنگر کی خصوصی رپورٹ
گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے منعقدہ بلوچ راجی مچی کے اجتماع سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عالمی قوتیں نہتے بلوچ قوم پر ریاست کی جانب سے سرعام قتل اور تشدد کرنے کے واقعات کا فوری نوٹس لے اور ریاست سے باز پرس کرے ۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید و گرفتارافرادکی حوالگی تک گوادر میں دھرنا جاری رہے گا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 28جولائی کو بلوچ راجی مچی کا انعقاد گوادر کے مشہور شاہراہ پدی زر میرین ڈرائیو پر ہزاروں لوگوں کا اجتماع منعقد کیا گیا۔
بلوچ راجی مچی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ آج کے اس اجتماع میں ایک باشعور بلوچ قوم بیٹھی ہوئی ہے جو یہ باخوبی جانتا ہے کہ اُس کا اصل دشمن کون ہے اور کون اُس کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم آج اپنی سرزمین پر غیروں جیسی زندگی گزار رہی ہے۔
ا ن کا کہنا تھا کہ اسی گوادر کے نام پر تمام سرمایہ داروں کو یہاں پر لایا جاتا ہے لیکن یہی گوادر کے لوگ جب ایک پُرامن سیاسی پروگرام کرنا چارہے ہیں تو پورے گوادر کو چاروں طرف سے بند کردیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جن بلوچ نوجوانوں کو شہید کیا گیا اور جنھیں گرفتار کیا گیا ہے جب تک اُنھیں ہمارے حوالے نہیں کیا جاتا گوادر کے میرین ڈرائیو پر دھرنا اسی طرح جاری رہے گا۔

ڈاکٹرماہ رنگ نے کہا کہ بلوچ خواتین کی چادروں کو کھینچا گیا ،اُن پر آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور آج بلوچ قوم اُس مقام پر ہے اب ہمیں آگے کی طرف جانا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچ راجی مچی کو روکھنے کے لیے ہر علاقے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں لوگ گوادر میں جمع ہوگئے ہیں۔
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ نے کہا کہ یہ ریاست شاید ہمیں جانی نقصان سے دوچار کرے لیکن ہمارے جانے کے بعد بھی بلوچ قوم کو جبر کے خلاف آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے درمیان جو ڈیتھ اسکواڈ کے لوگ موجود ہیں ہمیں اُنھیں باہر نکالنا ہے۔ آج پورے گوادر کو اس لیے بند کردیا گیا کہ بلوچ باہر نہ نکلے لیکن آج بلوچ قوم نے ہر رکاوٹ کو تھوڑ کر بلوچ راجی مچی میں حصہ لیا ۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ ہمارا وطن اور ہمارا نیلگوں سمندر آج ہمیں آواز دے رہا ہے کہ بلوچ قوم میرے لیے آواز اُٹھائے اور بلوچ کی سرزمین پر بیرونی قوتیں بھی حملہ آور ہیں۔
بلوچ راجی مچی سے صبغت اللہ شاہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جبکہ اجتماع کے اردگرد پولیس ،ایف سی اور بلوچستان کانسٹیبلری بڑی تعداد میں موجود تھی۔
بلوچ راجی مچی میں ایک اندازے کے مطابق بیس ہزار سےزائد مرد اور خواتین نے حصہ لیا،گوادر کے مشہور میرین ڈرائیو پر ہر طرف لوگ ہی لوگ نظر آرہے تھے بلوچ راجی مچی میں اندرون بلوچستان سمیت کوہ سلیمان ،نصیر آباد اور کراچی سندھ سے بھی سیبکڑوں لوگ شریک تھے۔
بلوچ راجی مچی کے لیے کراچی اور نوشکی سے آنے والے قافلوں کو پسنی زیروپوائنٹ اور تلار چیک پوسٹ کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کرکے روکا گیا جبکہ پورے مکران ڈویژن میں موبائل سروس بند اور پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ سسٹم بند کردیا گیا۔
مکران کوسٹل ہائی وے اور سی پیک روڈ ایم ایٹ شاہراہ پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی۔
اتوار کی صبح میرین ڈرائیو پر بلوچ راجی مچی کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے جس متعدد لوگ زخمی ہوگئے جبکہ اس موقع پر بیس کے قریب لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

جبکہ میرین ڈرائیور پر ایف سی اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل جاری رہا ایف سی کی مبینہ طور پر فائرنگ سے اصغر نامی نوجوان موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ 4 خواتین 1بچہ سمیت پانچ نوجوان بھی شدید زخمی ہوگئے جنھیں سول ہسپتال گوادر منتقل کردیا گیا۔
سول ہسپتال گوادر کے ذرائع کے مطابق اُنکے پاس دس سالہ قمبر عثمان اور محمد حسین ولد علی نواز ساکن خضدار ،راشد ولد محمد یوسف ساکن نال،محمد ابراہیم ولد حاجی کریم،جمعہ خان ولد محمد اعظم ساکن پنجگور اور محمد اکبر ولد بلال ساکن مشکے زخمی حالت میں لائے گئے جنھیں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد جی ڈی اے اسپتال گوادر منتقل کردیا گیا جبکہ شیلنگ سے سربندن سے تعلق رکھنے والی چار خواتین بھی زخمی ہوئیں۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ تلار چیک پوسٹ پر کوئٹہ ،پنجگور ،بیسیمہ ،قلات اور مستونگ سے آئے ہوئے قافلوں کو روکا گیا جس پر سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین ہاتھا پائی ہوئی اور سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو افراد موقع پر جان بحق ہوگئے جبکہ دو شدید زخمی ہوئے جنھیں تربت منتقل کردیاگیا۔