ریاستی کریک ڈائون کے باوجود بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر میں آج برور اتوار 28 جولائی کوبلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ بلوچ راجی مچی کے جلسہ گاہ میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔
جبکہ جلسہ گاہ کے قریب سید ہاشمی وارڈ میں جلسہ میں شرکت کرنے والے مجمعے پرپاکستانی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ااور متعددزخمی ہوگئے۔
ہلاک اورزخمیوں کو فوری طور پر جی ڈی اے اسپتال گوادر منتقل کیا گیا ہے۔
شہر کے حالات مکمل کشیدہ ہیں، فون اور انٹرنیٹ بند ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہر قسم کی رکاوٹوں کے باوجود گوادر میں لوگوں کا جم غفیر ہے اور بلوچ عوام جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں اور دیگر مسائل پر اس ریفرنڈم کا حصہ بنے ہیں۔
بی وائی سی نے کہا ہے کہ راجی مچی کے خلاف نسل کشی کی ظالمانہ مہم جاری ہے۔ سینکڑوں پرامن شرکاء کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ فوج اور نیم فوجی دستے (F.C) براہ راست غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ابھی ابھی گوادر میں فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک شریک ہلاک اور سات دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی وائی سی کراچی کے قافلے کو ہنگول کے مقام پر روک دیا گیا اور فورسز نے شرکاء پر سیدھی فائرنگ کی جس میں بچے، مرد اور بوڑھے خواتین شامل ہیں۔
بی وائی سی نے واضح کیا کہ ریاست اس تباہ کن صورتحال کی ذمہ دار ہے، جہاں قیمتی انسانی جانیں محض اس لیے ضائع ہو رہی ہیں کہ وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق پر عمل پیرا ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کی خلاف ورزیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ جس بربریت اور شرارت کے ساتھ وہ معصوم بلوچوں پر حملہ کر رہے ہیں وہ بلوچ عوام کے خلاف نفرت اور نسل کشی کی ان کی گہری ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔
گوادر میں ظہور شاہ ہاشمی چوک پدی سر کے مقام پر ’بلوچ راجءِ مچی‘ کا انعقاد کیا گیا ہے۔
شدید گرمی میں بھی ہزاروں کی تعداد میں شرکا جلسے پہنچے ہیں اور اپنی رہنما ماہ رنگ بلوچ کی تقریر سننے آئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی گوادر میں کشیدگی ، سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کی متعدویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب کئی مقامات پر فورسزنے رکاوٹیں کھڑی کرکے گوادر جانے والے قافلوں کو روکے رکھا ہے تاکہ وہ جلسہ میں شرکت نہ کرسکیں۔
کراچی سےگوادر جانے والے بسوں پر کنڈ ملیر کے مقام پر فائرنگ ، فائرنگ سے چند بسوں کے ٹائر برسٹ ہونے سے ٹریفک کی روانی مکمل بند ہے۔
گوادر جانے والے شرکا کے ضروری اشیاء اور پانی بھی ختم ہو گیا ۔
قافلے میں نوجوانوں سمیت خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے ۔