بلوچ جبری گمشدگیوں ،نسل کشی و دیگر ریاستی ظلم بربریت کیخلاف بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر میں 28 جولائی کو منعقدہونے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی بلوچ راجی مچی ( بلوچ قومی اجتماع) کو روکنے کیلئے ریاستی طاقت کا استعمال جاری ہے ۔
بی وائی سی کے کارکنان کی جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔
اطلاعات ہیں کہ کراچی سے مزید بی وائی سی کے کیبنٹ ممبر بالاچ بلوچ کو سیکیورٹی ادارے گھر سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔
کراچی سے اب تک 5 بی وائی سی کارکنان کو اغوا نما گرفتاری کا شکار بنایا گیاہے۔
اس سلسلے میں بی وائی سی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ہمارے وہ دوست جو کوئٹہ اور کراچی سے جبری طور پر گمشدہ کیے گئے ہیں، ان کے متعلق ہمیں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کسی بھی طور اپنے فاشسٹ رویے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ جبری گمشدگیاں اور جبر پہلے ہمارے راستے کو روک نہیں سکے، نہ ابھی روک سکیں گے، اور نہ ہی آگے اس عوامی کاروان کو روک سکیں گے۔
انہوںنے کہا کہ بلوچ عوام ریاست کے ہر جابرانہ قدم کے خلاف مزید اتحاد و یکجہتی پیدا کریں، اس عوامی مزاحمت کو مزید منظم کریں، اور اس ریاست کو جواب دیں۔