لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی اور انسانی حقوق کی کارکن سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ راجی مچی آگاہی مہم میں کراچی سمیت بلوچستان بھر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں اور لوگوں کو مختلف حربوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ جارہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کل رات کراچی سے چار افراد شہداد بلوچ، صدام بلوچ، باسط بلوچ اور عبدالرحمن جو کہ راچی مچی کی آگاہی مہم کے لئے چندہ اکٹھا کرنے والے کارکنوں کو نوالین سے پولیس کی حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جنکے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں ملے۔
سمی دین نے کہا ہے کہ آواران سے 13 سرگرم خواتین بشمول دو کم سن بچیوں کو پولیس اور ایجنسیوں نے گرفتار کرکے پولیس تھانہ منتقل کردیا کیا گیا ہے جہاں کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ کیا یہ ریاست ہمیں یہ سبق دے رہی ہے کہ اس ریاست میں پرامن احتجاج کا حق ہم بلوچوں کے پاس نہیں ہے ؟اگر ایسا ہے تو ہمیں اعلانیہ بتایا جائے اسطرح کے کمزور ہتھکنڈوں سے نہیں۔
سمی دین بلوچ نے مزید کہا ہے کہ بلوچ راجی مچی کی آگاہی مہم میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سرگرم کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں واشک مستونگ قلات سمیت حب چوکی کے ایف آئی آر میں مجھ سمیت درجنوں افراد کے نام بھی شامل ہیں گزشتہ روز حب ساکران کی پرامن اجتماع کو جواز بنا کر دہشتگردی کے مقدمات بنانا ریاستی بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بے بنیاد مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔ مگر ان ہتھکنڈوں سے صاف ظاہر ہے کون کس سے خوفزدہ ہے۔