راجی مچی روکنے کیلئے ریاستی ہتھکنڈوں سے صاف ظاہر ہے کون کس سے خوفزدہ ہے،سمی بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

‏لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی اور انسانی حقوق کی کارکن سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ راجی مچی آگاہی مہم میں کراچی سمیت بلوچستان بھر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں اور لوگوں کو مختلف حربوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ جارہی ہے۔

‏ان کا کہنا ہے کہ کل رات کراچی سے چار افراد شہداد بلوچ، صدام بلوچ، باسط بلوچ اور عبدالرحمن جو کہ راچی مچی کی آگاہی مہم کے لئے چندہ اکٹھا کرنے والے کارکنوں کو نوالین سے پولیس کی حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا جنکے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں ملے۔

‏سمی دین نے کہا ہے کہ آواران سے 13 سرگرم خواتین بشمول دو کم سن بچیوں کو پولیس اور ایجنسیوں نے گرفتار کرکے پولیس تھانہ منتقل کردیا کیا گیا ہے جہاں کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

‏انہوں نے کہا ہے کہ کیا یہ ریاست ہمیں یہ سبق دے رہی ہے کہ اس ریاست میں پرامن احتجاج کا حق ہم بلوچوں کے پاس نہیں ہے ؟اگر ایسا ہے تو ہمیں اعلانیہ بتایا جائے اسطرح کے کمزور ہتھکنڈوں سے نہیں۔

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1816094955607109743

سمی دین بلوچ نے مزید کہا ہے کہ بلوچ راجی مچی کی آگاہی مہم میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سرگرم کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں واشک مستونگ قلات سمیت حب چوکی کے ایف آئی آر میں مجھ سمیت درجنوں افراد کے نام بھی شامل ہیں گزشتہ روز حب ساکران کی پرامن اجتماع کو جواز بنا کر دہشتگردی کے مقدمات بنانا ریاستی بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ بلوچ سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بے بنیاد مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔ مگر ان ہتھکنڈوں سے صاف ظاہر ہے کون کس سے خوفزدہ ہے۔

Share This Article
Leave a Comment