بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ حکومتی وفد و انتظامیہ کیساتھ مزاکرات ہوئے ہیں، 15 دنوں میں ظہیر بلوچ کی عدم بازیابی پر دوبارہ احتجاج شروع کیا جائے گا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ ظہیر بلوچ کے بازیابی کے لئے جاری دھرنے میں حکومتی وفد اور انتظامیہ کے ساتھ مزاکرات ہوئے، جس میں ظہیر بلوچ کے جبری گمشدگی کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی کے خلاف درج کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ 11 جولائی کو حراست میں لیے گئے مظاہرین میں سے جو 21 مظاہرین اب بھی پولیس کے حراست میں تھے ان میں سے 15 کو اس وقت رہا کیا گیا جبکہ 6 کو پیر والے دن عدالتیں کھلنے کے بعد رہا کیا جائے گا اور 11 جولائی کو پر امن مظاہرین کے خلاف تمام مقدمات خارج کئے جائیں گے۔
انہوںنے مزید کہا کہ ظہیر بلوچ کے بازیابی کیلئے انکے لواحقین کے ہمراہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو 15 دن تک ظہیر بلوچ کو بازیاب کرانے میں اپنا کرادار ادا کریں گی اور 15 دن بعد اگر کمیٹی ظہیر بلوچ کو بازیاب نہ کرا سکی تو اس کے لواحقین اپنے احتجاج کو دوبارہ جاری رکھے گی۔