افغانستان پرپاکستان کا حملہ وکارروائی جارحیت تصور ہو گا، ذبیح اللہ مجاہد

0
26

افغانستان پر بزور طاقت قابض طالبان حکومت کے ترجمان نے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے پاس دہشت گردی کے حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو ہمیں دیں، ہم خود کارروائی کریں گے لیکن افغانستان پر حملہ اور کارروائی جارحیت تصور ہو گا۔

یوٹیوب چینل ’خراسان ڈائریز‘ کو انٹرویو میں افغان ترجمان نے کہا کہ دوحہ میں ہونے والے پچھلی دو نشستوں میں ہم شریک نہیں تھے تو اس کے نتائج برآمد نہیں ہو سکے، اس تیسری نشست میں امارات اسلامی کے تمام قوانین و ضوابط کا خیال رکھا گیا اور یہ ہمارے لیے بڑی کامیابی ہے کہ اقوام متحدہ نے ہمارے مطالبات کو اہمیت دی۔

داعش کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ داعش امارات اسلامیہ کے آنے سے پہلے افغانستان میں موجود تھی، ان کے ٹھکانے اور تربیت گاہیں بھی تھیں جن میں افغانیوں کی بھرتی کی جا رہی تھی لیکن ہم نے انہیں ختم کرنے کے لیے آپریشن کیے ہیں، ان کے تمام تربیتی ٹھکانے اور مراکز تباہ ہو گئے ہیں اور اس پر مسلسل کام چل رہا ہے۔

افغان حکومت کے ترجمان نے کہاکہ پاکستان کا مسئلہ 2001 سے چلتا آ رہا ہے جو ان کے آپریشنز کے ساتھ شروع ہوا، تحریک طالبان پاکستان پہلے سے موجود تھی، پاکستان میں پہلے سے بدامنی تھی اور یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے، ہم نے بارہا پاکستان کو اپنی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، ان سے کہا کہ اگر تحفظات ہیں تو ہمارے ساتھ بات کریں، ہم کسی کے بھی خلاف افغان سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ہم نے جنگ دیکھی ہے اور ہم کسی بھی ملک میں یہ نہیں چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر اندرونی مسائل انہیں خود حل کرنا ہوں گا، یہ ممکن نہیں کہ پاکستانی سرزمین پر کچھ ہونے کی صورت میں وہ افغانستان کی ذمے داری ہو، افغان میں کوئی بھی شخص پاکستان کے اندر حالات خراب کرنا نہیں چاہتا۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں البتہ انہیں اپنے اندرونی مسائل خود حل کرنے ہیں اور اسے افغانستان سے جوڑنا درست نہیں، اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو ہمیں دیں، ہم خود کارروائی کریں گے اور پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے والے کسی فرد کو نہیں چھوڑیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here