امریکہ کے ایک درجن کے قریب سابق حکومتی اہلکاروں نے واشنگٹن میں جو بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ غزہ پٹی کے بحران اور وہاں ہزاروں فلسطینی شہریوں کی ہلاکت میں وہ بھی ’’ناقابل تردید طور پر ملوث‘‘ ہے۔
ماضی بعید یا ماضی قریب میں مختلف امریکی حکومتوں کے دور میں اعلیٰ عہدوں پر فرائض انجام دینے والے ان ایک درجن کے قریب اہلکاروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی قیادت میں امریکی انتظامیہ اسرائیل کو ہتھیار بھیج کر امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی۔
اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، امریکہ کی طرف سے سفارتی طور پر پردہ ڈالا جانا اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی مسلسل ترسیل سے ہمارے لیے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ غزہ پٹی میں محصور فلسطینی آبادی کے فاقہ کشی پر مجبور کیے جانے اور وہاں شہری ہلاکتوں میں امریکہ کا ملوث ہونا ناقابل تردید ہے۔‘‘
ان درجن بھر سابق اعلیٰ امریکی حکام نے اپنے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کو اپنے سفارتی اور سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے غزہ پٹی میں جاری جنگ کو ختم کروانا اور اس فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل میں توسیع کروانا چاہیے۔‘‘
غزہ کی جنگ میں اسرائیل وہاں جو فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، وہ مسلسل زیادہ ہوتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کی زد میں ہیں اور اس دباؤ کی اہم ترین وجوہات میں اس محاصرہ شدہ فلسطینی علاقے میں پایا جانے والا شدید بحران بھی ہے۔
گزشتہ برس سات اکتوبر کو فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے جنوبی اسرائیل میں کیے جانے والے دہشت گردانہ حملے میں تقریباً 1200 افراد کی ہلاکت اور پھر اسرائیل کی طرف سے حماس کے ٹھکانوں پر فوری زمینی اور فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی غزہ کی جنگ میں اب تک ایک ملین سے کہیں زیادہ شہری بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ وہاں شہری آبادی کے بہت بڑے حصے کو بھوک کے شدید مسئلے کا سامنا بھی ہے۔
اس کے علاوہ اب تک اس جنگ میں غزہ پٹی میں تقریباً 38 ہزار فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اب تک اس جنگ میں 86 ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔