بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی(بی وائی سی) بلوچ طلبا تنظیموں اور سیاسی و سماجی حلقوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی بھرپور حمایت اور جبری گمشدگیوں کیخلاف تحریک کو توانا کرنے کا اعلان کیا گیاہے۔
تربت میں ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر 10 روز سے قائم لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ میں بی وائی سی، بلوچ طلباء تنظیموں میں بی ایس او کے تمام حصّے، تربت سول سوسائٹی، حق دو تحریک اور دیگر سیاسی حلقوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں باہمی مشاورت سے اتفاق کیا گیا کہ لاپتہ افراد کے تحریک کو توانا کرنے کیلئے سیاسی قوتیں ملکر جدوجہد کو تیز کرینگے اور لواحقین کی جانب سے جاری کردہ احتجاجی شیڈول کی بھرپور حمایت بھی کی گئی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے پر ریاستی ادارے تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے لواحقین کیساتھ لیت و لعل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ دو ہفتے سے قائم احتجاجی کیمپ میں ڈپٹی کمشنر سمیت ریاستی حکام نے تاحال وزٹ کرکے لواحقین کی سنوائی بھی نہیں کی ہے۔ اس ضمن میں بلوچستان بالخصوص کیچ کی سیاسی قوتوں نے متفقہ فیصلہ کیا ہیکہ وہ لواحقین کی تحریک کو کسی طور تنہا نہیں چھوڑیں گے بلکہ بھرپور مداخلت کرکے اس تحریک کو عوام کی وسیع تر حلقوں تک پہنچانے میں اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔
اجلاس میں طے پایا کہ پولیٹیکل فورسز اپنی حمایت کا اعلان اور اپنا موقف مشترکہ طور پر آج شام دھرناگاہ میں پریس کانفرنس کے ذریعے پیش کرینگے۔ اجلاس کے شرکاء نے صحافی برادری، سیاسی و سماجی حلقوں اور عوام الناس سے بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی ہے۔