حب: دریجی مائن لیز اراضیات تنازع پر 230 افراد کیخلاف مقدمہ درج

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے حب سے منسلک علاقے دریجی میں مائن لیز اراضیات پراٹھنے والے تنازع اور بعدازاں گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کرنے والے 230 افراد پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دریجی مائن لیز اراضیات تنازع اور گرفتاریوں پر احتجاج ساکران اور وندر میں کیا گیا جہاں بھوتانی عوامی کارواں کے 26رہنمائوں اور کارکنوں سمیت 230نامعلوم افراد کے خلاف تعزات پاکستان کی دفعات 147,341اور149کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

نامزد افراد میں ساکران سے وائس چیئرمین ضلع کونسل حب کمال محمد حسنی ،اصغر بزنجو ،رزاق لاسی ،رحمت اللہ مری ،واحد بخش جمالی ،عبدالحق مری ،وڈیرہ یعقوب لاسی ،اسد علی و دیگر 70سے80نامعلوم جبکہ وندر میں 18افراد ماسٹر غلام رسول انگاریہ ،وڈیرہ عبدالستار انگاریہ ،محمد سلیمان انگاریہ ،نذیر احمد فقیر ،عبدالحمید ساجدی ،محمد یعقوب نوہانی ،زاہد مبارک ،رحیم بخش برہ ،غلام مصطفی بروہی ،امیر بخش دودا ،ڈاکٹر نور انگاریہ ،عبدالواحد سوری ،خدائے داد ،علی بخش فقیر ،جاوید فقیر ،سیف اللہ اور خالد سمیت 100سے150نامعلوم افراد شامل ہیں۔

اس حوالے سے بھوتانی عوامی کی جانب سے رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کا اندراج حکومت اور پولیس کی طرف سے انتقامی کارائیاں اور پولیس کاجاندارانہ سلوک قرار دیا جارہا ہے۔

دوسری جانب دریجی مائن لیز اراضیات تنازعہ ڈی آئی جی پولیس قلات رینج موقع ملاخطہ کرنے دریجی پہنچ گئے ۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ دریجی مائن لیز اراضیات تنازع کے حوالے سے پیداہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ڈی آئی جی پولیس قلات رینج منیر احمد شیخ ماتحت افسران اور بھاری نفری کے ہمراہ گزشتہ روز دریجی پہنچے جہاں انھوں نے کھڈارومائن لیز کی اطراف کی تنازع اراضیات کا معائنہ کیا اور وہاں موجود فورسز کے افسران اور اہلکاروں سے ملاقات کی۔ بعدازاں وہ شام کو واپس حب پہنچ گئے اس حوالے سے ضلع حب پولیس کی جانب سے میڈیا کو نہ تو سرکاری سطح پر اور نہ ہی پولیس کارروائی اور دریجی صورتحال کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہے اور نہ ہی متعلقہ بالا افسران فون اٹینڈ کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان حکومت کی طرف سے مذکورہ معاملے پر مکمل خاموشی ہے ۔

دریجی مائن لیز اراضیات تنازع کی حقیقت کیا ہے ؟ کیااس میں اسٹیبلشمنٹ وحکومت ملوث ہیں یا لینڈ مافیا؟ یا عوامی اراضیات پر لیز کے نام پرقبضہ کیا جارہاہے ؟اس حوالے سے اب تک میڈیا کو مکمل اندھیرے میں رکھا گیا ہے ۔

Share This Article
Leave a Comment