بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے رہنما رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بنگلہ دیش یومِ نسل کشی کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں وہی ریاستی طرزِ عمل دہرا رہا ہے جو 1971 میں بنگالی قوم کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔
رحیم بلوچ نے یہ ردِعمل بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمان کی اس پوسٹ پر دیا جس میں انہوں نے 25 مارچ 1971 کو یومِ نسل کشی کے طور پر یاد کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ دن بنگلہ دیش کی تاریخ کا سب سے سیاہ اور سفاک دن تھا، جب پاکستانی فوج نے بنگالی عوام کے خلاف بڑے پیمانے پر ظلم و بربریت کا آغاز کیا۔
بی این ایم رہنما نے کہا کہ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں پھیلی ہوئی آبادیوں پر بمباری، جبری گمشدگیاں، اور نوجوانوں، خواتین اور بچوں کے ماورائے عدالت قتل معمول بن چکے ہیں، جو 1971 کی ریاستی پالیسیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں میڈیا، سیاسی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کی آوازوں پر غیر اعلانیہ پابندی نافذ ہے، جس کے باعث زمینی حقائق دنیا تک نہیں پہنچ پاتے۔
ان کے مطابق ریاست نے بلوچ عوام کی نام نہاد “ڈی ریڈیکلائزیشن” اور “بحالی” کے نام پر من مانے حراستی مراکز قائم کر رکھے ہیں، جو اکیسویں صدی میں گزشتہ صدی کی نوآبادیاتی پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔
رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور بنگلہ دیش سمیت خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور بلوچ عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔