بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مستونگ کے علاقے کلی کاریز سور میں فرنٹیئر کور (ایف سی) نے عیدالفطر کی رات ایک چھاپے کے دوران محمد عامر ولد دل مراد کو گھر سے نکال کر ماورائے عدالت قتل کر دیا۔
بی وائی سی کے مطابق ایف سی اہلکار بغیر کسی وارنٹ کے گھر میں داخل ہوئے اور پانچ منٹ کے اندر اندر عامر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قتل کے بعد ایف سی اہلکاروں نے محمد عامر کی لاش تقریباً 12 گھنٹے تک اپنی تحویل میں رکھی۔ بعد ازاں جب لاش واپس کی گئی تو اہلِ خانہ اور علاقے کے متعدد ناخواندہ بزرگوں سے زبردستی ایک اسٹامپ پیپر پر دستخط کروائے گئے، جسے نہ پڑھنے دیا گیا اور نہ ہی اس کی تفصیلات بتائی گئیں۔
بی وائی سی کے مطابق خاندان نے واضح کیا ہے کہ اگر اس دستاویز میں کوئی بات ان کے مفاد کے خلاف درج ہے تو وہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
بیان میں محمد عامر کی والدہ کے جذبات بھی شامل کیے گئے ہیں، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو سخت محنت اور جدوجہد سے پالا، مگر ریاستی اہلکاروں نے چند لمحوں میں ان کی زندگی اجاڑ دی۔
ان کا کہنا تھا کہ “کیا ہم اپنے بچوں کو اس لیے پالیں کہ کوئی بھی آکر گھر میں گھس کر انہیں قتل کر دے؟ ہم اتنے غیر محفوظ ہو چکے ہیں کہ کوئی ہماری حفاظت کرنے والا نہیں رہا۔”
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری ریاستی تشدد، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے منظم سلسلے کا حصہ ہے، جس کے بعد ہمیشہ ثبوت مٹانے اور ذمہ داری سے بچنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق بلوچستان کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خراب ہو رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔
بی وائی سی نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے سمیت بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور بلوچ عوام کے لیے انصاف کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔