بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینیئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ نے ایک بیان میں جامعہ بلوچستان کی موجودہ انتظامیہ، خصوصاً پرو وائس چانسلر، پر کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات کے غلط استعمال کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ موجودہ پرو وائس چانسلر مبینہ طور پر سابق وائس چانسلر جاوید اقبال کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں اور انہی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جامعہ کے انتظامی و مالی معاملات کو متاثر کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق پرو وائس چانسلر ایک ہی وقت میں متعدد چارج سنبھالے ہوئے ہیں، جس کا مقصد اختیارات کا ارتکاز اور مالی بے ضابطگیوں کو تقویت دینا ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ جامعہ بلوچستان پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہے، جس کا بوجھ ملازمین اور طلبہ پر ڈالا جا رہا ہے۔
تنظیم کے مطابق تنخواہوں میں کٹوتیاں، فیسوں میں غیر معمولی اضافہ سے طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل بنا رہے ہیں۔
BSO پجار نے الزام عائد کیا کہ جامعہ میں سابق انتظامیہ سے وابستہ عناصر دوبارہ سرگرم ہو رہے ہیں اور گورنر ہاؤس سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے ساتھ مل کر ٹینڈرز، کینٹین اور دیگر ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔
تنظیم کے مطابق ایک استاد کا تعلیمی ذمہ داریوں کے بجائے کاروباری معاملات میں شراکت داری کرنا "جامعہ کے وقار کے منافی” ہے۔
بیان کے آخر میں BSO پجار نے گورنر بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ پرو وائس چانسلر کے مبینہ کرپشن اور اقربا پروری کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ایک سے زائد چارج رکھنے کے معاملے کا احتساب کیا جائے۔ جامعہ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی شفاف تفتیش کی جائے۔
تنظیم نے اعلان کیا کہ وہ جامعہ بلوچستان کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے اپنی تحریک مزید تیز کرے گی۔