27 مارچ یومِ قبضہ پر سیکیورٹی خدشات باعث بلوچستان میں ٹرین سروس بند

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں 27 مارچ یومِ قبضہ کے موقع پر ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بلوچستان میں ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ تعلیمی ادارے پہلے ہی 31 مارچ تک بند کیے جا چکے ہیں۔

سرکاری سطح پر ان فیصلوں کی وجہ فنی مسائل اور عمومی حالات بتائی گئی ہے، تاہم باخبر ذرائع کے مطابق یہ اقدامات سیکیورٹی الرٹ کے تحت کیے گئے ہیں۔

پاکستان ریلویز نے اعلان کیا ہے کہ 27 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس روانہ نہیں ہوگی، جبکہ پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد سے واپس کر دیا جائے گا۔

کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل اور چمن پسنجر ٹرین پہلے ہی معطل ہیں۔

27 مارچ بلوچستان میں ایک حساس دن سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بلوچ قوم اسے یومِ قبضہ کے طور پر مناتی ہے۔ ماضی میں بھی اس دن سمیت 14 اگست، 6 ستمبر اور دیگر ریاستی ایام پر آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیمیں متعدد مربوط اور مہلک کارروائیاں کر چکی ہیں،جس کے باعث سیکیورٹی ادارے اس دن کو ہمیشہ ہائی الرٹ پر گزارتے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے بلوچستان بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکول، کالجز، جامعات، پولی ٹیکنک ادارے، بی آر سیز اور کیڈٹ کالجز کو 31 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان پہلے ہی کر رکھا ہے۔

اگرچہ نوٹیفکیشن میں عمومی حالات اور انتظامی وجوہات کا ذکر ہے، لیکن حکومتی ذرائع کے مطابق یہ بندش بھی سیکیورٹی خدشات سے جڑی ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 مارچ کے تناظر میں بلوچستان بھر میں حساس تنصیبات، ٹرانسپورٹ روٹس اور تعلیمی مراکز کو ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Share This Article