بی این ایم کے خارجہ سیکریٹری فہیم بلوچ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 68ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں جبری گمشدگیاں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل مسلسل جاری ہیں جبکہ متاثرہ خاندانوں کو ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فہیم بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور تشدد کو "قتل کرو اور پھینک دو” پالیسی سے تعبیر کرتی ہیں، جہاں متعدد افراد کو سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حراست میں لینے کے بعد طویل عرصے تک لاپتہ رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات ان کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بھی اپنی رپورٹس میں جبری گمشدگیوں کے تسلسل اور متاثرہ خاندانوں کو درپیش ہراسانی کی نشاندہی کر چکا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے بلوچستان میں اجتماعی قبروں کی اطلاعات پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ امریکہ نے اپنی سالانہ انسانی حقوق کی رپورٹ میں قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے متعدد واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک، خصوصاً نیدرلینڈز، نے بھی ان خدشات کو عالمی فورمز پر اجاگر کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کی شفاف تحقیقات کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری یقینی بنائے۔
فہیم بلوچ نے کونسل سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں آزادانہ تحقیقات کی حمایت کرے، احتساب کے عمل کو مضبوط بنائے اور وہاں کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔