ریاست بلوچ پشتون اورسندھیوں کو بعد اغوا شہیدکرکے انکی لاشیں پھینک رہی ہے،ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read


لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3975دن مکمل ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی کمیٹی کے ممبر آغا زبیر ضلعی کواڈینیٹر نور باچا اجمل خان محمود خان شیر خان نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بلوچ پشتون، اورسندھیوں کو اغواء کرکے پھر انہیں شہیدکرکے انکی لاشیں بلوچستان،سندھ اورخیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں پھینکتے آرہے ہیں پشتون سندھی اور بلوچوں کو عرصہ دراز سے ریاست اور اس کے کسی ادارے سے رحم اور انصاف کی کوئی امید نہیں لیکن بحیثیت انسان انٹرنیشنل اور ملکی انسانی حقوق کے اداروں سے امید کی توقع رکھتے ہیں کہ وہ سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں نسل کشی اور انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے خلاف ایکشن لے کر اپنا کردار ادا کریں۔

ماما نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی امن سے کوئی سروکار نہیں بلکہ اس کی معیشت تو اسی دہشتگردی سے چلتا آرہا ہے لہذا پاکستان سے یہ امید رکھنا کہ وہ اس خطہ میں امن لائیگا سعی لاحاصل ہے پاکستان کے یہ دہشت پسندانہ عزائم اب عالمی امن کے لئے انتہائی خطرے کا باعث ہے۔

ماما کا کہنا تھا اقوام متحدہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان کے اس طرح کے کاروائیوں کے سامنے بند باندھ لیں ورنا آنے والے دنوں میں یہ دہشتگردانہ کاروائیوں بلوچ،سندھی اور پشتون تک محدود نہیں ہونگے بلکہ آنے والے دنوں میں عالمی امن کے لئے بھی خطرہ ناک ثابت ہوسکتے ہیں

Share This Article
Leave a Comment