بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستانی فورسز نے ایک اور نوجوان کو حراست میں لیکرجبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت مہران ولد صغیر کے نام سے ہوئی ہے جو کہ بالیچہ کا رہائشی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مہران تربت جارہے تھے کہ راستے میں فورسز نے گاڑی سے اتار کر اسے اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
دوسری جانب ضلع آواران کے علاقے مشکے میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کی جانب سے ایک نوجوان پر تشدد کی ویڈیوسوشل میڈیا پرسامنے آگئی ہے ۔
تشدد کا نشانہ بننے والے شخص کی شناخت سمیر ولد فقیر کے نام سے ہوئی ہے جو کہ زمیندار اور مشکے کے علاقے نوکجو کا رہائشی ہے۔
سمیر 5 جون کو اپنی کھیت پر گیا اور اسے وہاں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیاہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے سمیر سے کہہ رہے ہیں کہ آپ ہماری اجازت کے بغیر اپنی کھیت پر کیوں آئے ہو۔
وہ سمیر بلوچ سے کہہ رہے ہیں کہ ہم سے معافی مانگو، اور اس دوران ڈیتھ اسکواڈ کارندہ اپنے دوسرے ساتھی کو ہتھیار لانے کو کہہ رہا ہے۔ اور اس جگہ ایک خاتون کو بھی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں سے اپیل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔