پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا ہے۔
اس بم دھماکے میں فوج کے ایک افسر سمیت 7 اہل کار ہلاک ہوئے جب کہ ایک زخمی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے لکی مروت میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم حملے کی تصدیق کی ہے اور بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں فوج کے ایک کپتان اور نائب صوبیدار سمیت 7 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
لکی مروت میں دوسرا بم دھماکہ گاؤں سلطان خیل کے قریب ہوا۔
اس رپورٹ کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ بم دھماکے میں ایک پولیس اہل کار ہلاک اور چھ افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق ڈی آئی خان پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں نے موقع پر پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بم دھماکہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا۔ بم دھماکے کا ہدف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا قافلہ تھا۔
زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔