بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں نصف صدی سے قائم بکسٹالز کو بلڈوز کرنے کا ریاستی اقدامات کے شروع ہوگئے ۔
حکومتی آشیر واد سے اخبارات ، رسائل و دینی کتب کو پھاڑ کر پھینکنے کے عمل پر علمی ،ادبی وصحافتی حلقوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
اس سلسلے میں کوئٹہ پریس کلب کے صدر ، سیکرٹری جنرل سمیت دیگر عہدیداروں نے باچا خان چوک میں اخباری پیپرز بکسٹالز کو بلڈوزر کرنے اخبارات ، رسائل، دینی کتب کو پھاڑ کر پھینکنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس مسئلے کا فوری طور پر نوٹس لے کیونکہ یہ بکسٹالز نصف صدی سے زائد عرصے سے علم و آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 1972ءمیں سابق میئر ذکریا خان کاسی اور حکومت نے ان کو جگہ دی تھی تاکہ وہ اپنا رزق حلال کمائیں عدالت میں کیس زیر سماعت ہونے کے باوجود ان پر اچانک حملہ ہو احالانکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا جوکہ تحریری طور پر موجود ہے بلدیہ نے جب تک یہ پلازہ تعمیر ہونے تک سامنے متبادل جگہ دیں گے جس کا نقشہ بھی بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسئلے کے حل کیلئے عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا تو ایکشن کمیٹی کا اجلاس بلا یا جائے گا اور آئندہ کیلئے حکمت عملی طے کی جائے گی۔