بلوچستان کے افغانستان سے منسلک سر حدی شہر چمن میں دھرنا مظاہرین پر پاکستانی فورسز کاحملہ ، تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف پشتون قوم پرستیں جماعتیں سراپااحتجاج ہیں جبکہ حالات مکمل کشیدہ ہیں۔
چمن میں فورسز کی بڑی تعداد تعینات کردیا گیا ہے ، شہر کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے فورسز کے تازہ دم دستوں کا گشت جاری ہے ۔
ایف سی، پولیس، لیویز کے تازہ دم دستوں نے شہر کے مختلف روڈز پر کنٹرول سنبھال لیا ہے،کرفیو کا سماں ہے۔
مرکزی دھرنے کے اطراف میں فورسز کی بڑی تعداد موجود ہے اورحالات کے پیش نظر کوئٹہ چمن پسنجر ٹرین سروس غیر معینہ مدت تک معطل کردی گئی۔
واضع رہے کہ چمن میں دھرنا گذشتہ 9 مہینوں سے جاری ہے جو بارڈر پر حکومت پاکستان کی جانب سے رائج کردہ پاسپورٹ قوانین کیخلاف عوام سراپا احتجاج ہیں جسے فورسزنے مختلف اوقات میں سبو تاژ کرنے کیلئے طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جو ہنوز جاری ہے ۔
اس سلسلے میں پشتون ملتپال، ترقی پسندپارٹیوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ تمام معاہدوں، قوانین اور اصولوں کی روشنی میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف آباد پشتون افغان وطن کے تمام عوام کو بغیر پاسپورٹ کے تجارت، کاروبار اور آمد ورفت کا قانونی اور قومی حق حاصل ہے چمن کے غیور عوام کے مطالبات جمہوری، آئینی، قانونی اور برحق ہے، چمن پرلت ان کے رہنماں، کارکنوں کے خلاف وحشت، بربریت اور تشدد پر مبنی اقدامات پشتون افغان دشمن قوتوں کی انتقامی رویے اور تعصب پر مبنی پالیسیوں کو اشکارا کرتی ہے جو پشتون افغان ملت کو سیاسی اور قومی طور پر محکوم کرکے اب ان کی معاشی ناکہ بندی اور معاشی قتل عام کررہی ہے۔ گزشتہ 45 سالوں سے پشتونخوا وطن پر مسلط انتہائی پسندی، دہشتگردی، بد امنی، لاقانونیت روز اول سے شعوری منصوبہ بندی اور شعوری سازش کا نتیجہ ہے جس نے پشتون افغان ملت کو ہر شعبہ زندگی میں تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہارپشتون تحفظ مومنٹ کے بلوچستان کوارڈینیٹڑ نور باچا، عوامی نیشنل پارٹی کے بلوچستان صدر اصغر خان اچکزئی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسی روشان اور نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے بلوچستان صدر احمد جان خان نے پریس کلب کے سامنے چمن پرلت اور چمن عوام کے خلاف حکومت ان کے سیکورٹی فورسز اور ضلعی انتظامہ کی جانب سے گزشتہ تین روز سے غیر قانونی اور بلاجواز تشدد پر مبنی کارروائیوں کے خلاف احتجاج جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اور عوامی نیشنل پارٹی کے ضلع کوئٹہ کے صدر ثنا اللہ کاکڑ نے قراردادیں پیش کی۔
پشتون تحفظ مومنٹ کے بلوچستان کوارڈینیٹر نورباچا نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چمن کے عوام پر حکومت اور ان کے سیکورٹی فورسز کی جانب سے تشدد، ظلم وجبر، گرفتاریوں اور درجنوں کارکنوں کو زخمی کرنے کا پشتون دشمن عمل قابل برداشت نہیں، چمن کے غیور عوام نے اپنے آئینی، قانونی اور حقیقی مطالبات کیلئے 9 ماہ سے سیاسی جمہوری احتجاج شروع کرکے پرلت کا منظم بندوبست کر رکھا ہے اور ہر قسم کے تشدد کو برداشت کرکے حالات کو پرامن رکھا ہے اور اب اس سیاسی جمہوری تحریک کو تشدد کے ذریعے ختم کرنے کی سازشیں اور اقدامات قابل گرفت ہے ڈیورنڈ لائن کے آر پار قبائل کی زندگی کی روزمرہ ضروریات پوری کرنا اس لائن کے ساتھ مربوط ہے اور ان پر پاسپورٹ کا اطلاق نہیں ہوتا اگر ہندوستان سے سکھ بغیر پاسپورٹ کے آسکتے ہیں تو پشتون افغان عوام ایک دوسرے کے پاس جانے اور زندگی کی ضروریات پوری کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن چمن میں کرفیو کی صورتحال مسلط کرکے اس حقیقی تحریک کو ناکام نہیں بنایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک کے ہر گوشے میں فلسطین اور کشمیر سے زیادہ پشتونوں کے ساتھ ظلم وجبر کا رویہ اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کے ہر علاقے سے ایف سی کو نکال کر امن وامان کی تمام ذمہ داری سول اداروں کو دی جائے ایف سی اپنے تنخواہوں کے ساتھ بلوچستان حکومت سے اربوں روپے اور روزانہ بھتہ خوری کے ذریعے کروڑوں روپے اکھٹا کررہی ہے اور ایف سی کے آنے کی وجہ سے ژوب تا ہرنائی، دکی تا سبی تمام علاقوں میں بدامنی اور لاقانونیت عروج پر پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک میڈیا کا کردار قابل افسوس اور پشتون دشمنی پر مبنی ہے ملک کے کسی بھی علاقے میں معمولی واقعے کو بڑا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن پشتونوں کے قتل عام اور پشتون علاقوں میں بدترین بدامنی اور لاقانونیت کے واقعات کی رپورٹنگ نہیں کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے پشتون نمائندوں کا کوئی قومی کردار نہیں اور وہ چمن جیسے دردناک واقعات پر آواز نہیں اٹھاتے ان پشتون نمائندوں نے اپنی حقیقت ہمارے عوام پر واضح کرنے ہوگی کہ وہ اگر واقعی پشتون وطن کے نمائندے ہے تو چمن کی اذیت ناک صورتحال پر اسمبلی اجلاسوں کا بائیکاٹ کرکے ان کے حل کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے وطن دوست کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے قومی مفادات اور قومی شعوری بیداری کیلئے جاری جدوجہد کو مزید تیز کریں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے بلوچستان صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پہلے پہل 45 سال سے پشتونخوا وطن پر انتہا پسندی فرقہ واریت، دہشتگردی مسلط کرکے جہاد کے نام پر پشتون افغان عوام کا قتل عام کیا گیا اور پشتون افغان عوام کو زندگی کے ہر شعبےمیں درپدری، غربت اور پسماندگی میں دھکیل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چمن کے عوام کا مطالبہ آئینی، قانونی اور مروج اصولوں کے مطابق برحق مطالبہ ہے اس ملک کے بننے یعنی 77 سالوں سے ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف کے عوام بغیر پاسپورٹ کے آتے جاتے رہے ہیں اور وہ آمد ورفت قانونی تھی اب کون سا آسمان گر پڑا کہ تمام معاہدوں اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر بلا جواز پاسپورٹ کی شرط مسلط کی گئی۔
انہوں نے کہا پشتون افغان عوام کے خلاف سارے ملک میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہےملک کے ہر گوشے میں ہمارے عوام کی شناختی کارڈ تک کو تسلیم نہیں کیا جاتا انہیں کاروبار، تعلیم، محنت مزدوری کیلئے نہیں چھوڑتے حتی کہ غریب مریضوں، بوڑھے افراد اور خواتین تک کے ساتھ نازیبا سلوک کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور دہشتگردوں کے آنے کے الزام کی آڑ میں پشتون افغان عوام کے خلاف غیر اعلان شدہ آپریشن جاری ہے دہشتگردی در حقیقت اس ملک کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خود اس کا پیدا کردہ ہے اور اس کے واضح ثبوت ہر علاقے میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون افغان عوام کو زندگی کے کسی بھی شعبے میں نہیں چھوڑا جاتا ملک کے ہر قوم کے قوم پرست نمائندوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی لیکن وطن دوست ، وطنپال پشتون نمائندوں پر پارلیمنٹ کے راستے بند کر دیئے گئے۔پشتونوں کے خلاف ملک کے ہر ادارے کے ذریعے ظلم وجبر اور امتیازی سلوک کا رویہ اور منفی اقدامات جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان میں بیٹھے برسر اقتدار لوگ پشتون افغان ماں، بہنوں اور اپنے بوڑھوں کی بے عزتی پر کیوں خاموش ہیں انہیں چپ کا روزہ توڑ کر اپنے قومی ذمہ داری نبھانی چاہیئے اگر وہ واقعی اس قوم کے نمائندے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشتون افغان ملت پرافتخار تاریخ کے مالک ہے لہذا ہمیں اپنے افغانیت، بھائی بندی، اخلاص اور اتفاق کی راہ اپنا کر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا ہمارے جن قوتوں کے ساتھ اختلاف ہے وہ اتنے زوراور نہیں کہ وہ پشتون افغان ملت کو محکوم رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ژوب، ہرنائی، دکی، لورالائی تک معدنیات پر قبضہ کرنے پشتون بلوچ علاقوں میں بدترین حالت مسلط کرنے اور کشمیر و فلسطین سے زیادہ ظلم وجبر مزید قابل برداشت نہیں اور چمن کے غیور عوام کو درپیش مسئلہ صرف چمن کے عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ تمام پشتون افغان ملت کا قومی اور ملی مسئلہ ہےاور حکمرانوں نے اسے لازما حل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چمن سے گرفتار پرلت کے رہنماں اور کارکنوں پر تشدد کرنے اور انہیں حبس بے جا میں رکھنا حکومت اور ان کے اداروں کی ظلم وجبر کو ثابت کرتی ہے انہیں اب تک کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیاگیا اس کا مطلب واضح ہے کہ حکمران آئین وقانون پر یقین نہیں رکھتے اور ظلم وجبر، زور و زبردستی کے ذریعے چمن سمیت پشتون غیور عوام کی سیاسی جمہوری تحریکوں کو ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔