سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کی ممکنہ مسماری ، علمی، ادبی وسیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کی وجہ سے   سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کے مسمار ہونے کے خدشات پر کراچی کے سمیت بلوچستان کے علمی ادبی وسیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر میں جہاں دوسرے عمارات کو انہدام کا سامنا ہے اسی طرح بلوچ و بلوچستان کی علمی ادارہ سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کومسماری سامناہے۔

اس سلسلے میں سوشل ایکٹوسٹ حفیظ بلوچ، ڈاکٹر پروفیسر رمضان بامری، کالم نگار عزیز سنگھور، واحد کامریڈ، عظیم دہکان، عمران ایڈوکیٹ، صحافی بشیر بلوچ، ریاض بلوچ و دیگر نے کہا سندھ حکومت کی جانب سے ملیر میں کوئی لائبریری قائم نہیں کی گئی۔سید ہاشمی ریفرنس لائبریری عوام کے چندوں سے قائم کی گئی ہے اس کو ایک سڑک کی خاطر مسمار کرنا افسوسناک عمل ہے۔

انہوں نے کہا لایبریری میں بلوچی ادب کا نایاب ذخیرہ موجود ہے، حکومت و انتظامی اداروں کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔ کسی بھی منصوبے کے تحت لایبریری کو مسمار کرنا قابل مذمت عمل ہے۔ حکومت علمی ادارے تعمیر کرنے کے بجائے بنے بنائے اداروں کو مسمار کرکے ملیر کی عوام کو جھالت میں رکھنا چاہتی ہے، ایسی سازش کے خلاف عوام مزاحمت کریگی۔

اسی طرح بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی (بساک) کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید ظہور شاہ ہاشمی ریفرینس لائبریری ملیر بلوچی زبان و ادب کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچوں کی قومی میراث ہے جسے شہید صباء دشتیاری نے انتہائی محنت سے بناکر فعال بنایا تھا جو آج تک فعال ہوکر قائم ہے۔ پروفیسر صباء نے انتہائی مشکل حالات میں بلوچ قوم سے مدد لے کر اسے تعمیر کیا اور ان کا خواب تھا کہ یہ بلوچی زبان و ادب کا علمی مرکز بن کر ایک تحقیقی مرکز کے طور پر قائم رہے گا۔ لائبریری کو اس طرح مسمار کرنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

‎‏بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملیر ایکسپریس وے جسے کچھ بااثر لوگ اور طبقہ بنارہے ہیں بحریہ ٹاون سے شروع ہوکر ملیر کے کئی علاقوں سے ہوتے ہوئے ڈی ایچ اے تک جاتی ہے جس کے راستے میں کئی مقانات اور لوگوں کے گھر آرہے ہیں جو گرائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروجکٹ سے ملیر کی ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہوری ہے۔ حکومت اور بااثر طبقہ لوگوں کو ڈرا و دھمکا کر انکی زمینیں ہڑپ رہی ہیں جس کے خلاف مقامی باشندوں نے کئی بار احتجاج بھی کی ہے مگر کوئی سننے والا نہیں۔ اسی نام نہاد ترقی کے پروجیکٹ جو صرف ایک مخصوص طبقہ کے لئے ہے کے آڑ میں بلوچی زبان کا عِلمی مرکز سید ہاشمی ریفرینس لائبریری آرہا ہے۔ لائبریری کے نمائندوں نے حکام بالا سے کئی بار رجوع کی ہے مگر یہ سارے ادارے سننے کے بجائے انہی طبقہ کی حمایت کررہے ہیں جو بہت ہی افسوسناک ہے۔ ‎

بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ سید ریفرینس لائبریری بلوچوں کی قومی ادارہ ہے، اس قومی عِلمی مرکز کو اس طرح گرانے کی کوشش کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہم بطور بلوچ طلباء تنظیم یہ واضح کرتے ہیں کہ اس طرح کے علم دُشمن حرکتوں کے خلاف ہم اپنی پلیٹ فارم پر مزاحمت کریں گے۔ ہم حکام بالا سے یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بلوچ دشمن پالیسی کو ترک کر دیں وگرنہ ہم اس کے خلاف بھرپور احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ اپنے بلوچ قوم کے نوجوان طلباء، استاد، ادیب و دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اِس کے خلاف آواز اٹھا کر اپنے قومی علمی اداروں کو بچانے میں کردار ادا کریں۔

علاوہ ازیں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ استعمار کا وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی خطے میں مقامی آبادی کا مرضی و منشاء کے بغیر ترقی کے نام پر ہمیشہ استحصال کیا جاتا ہے جس طرح اس خطے میں بھی مختلف علاقوں میں بسے بلوچ قوم کو ترقی کے نام پر نوآبادکاری کے زریعے استحصال کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔ بلوچستان بھر کی طرح بلوچوں کے قدیم علاقے ملیر کو بھی سازش کےتحت استحصالی پراجیکٹس کے زریعے ترقی کے نام پر تباہ کیا جا رہا ہے۔کراچی کے اشرافیہ علاقوں کو جوڑنے والی سڑک کے لئے درجن بھر بلوچ اکثرتی گوٹھوں، سینکڑوں ایکڑ زرعی زمینوں، درختوں سبزہ زاروں سمیت ریفرنس لائبریری جیسے بلوچوں کے اہم علمی ادارے کو قربان کیا جا رہا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی بلکہ ایسا کوئی بھی عمل خود پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1977 اور سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 کی کھلی خلاف ورزی ہوگی۔

ترجمان نے کہا کہ کراچی سمیت بلوچستان بھر سے بلوچ اقوام، سیاسی پارٹیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائیٹیز سمیت مظلموم اقوام کی اجتماعی زمہداری بنتی ہے کہ اس منصوبے خلاف بلا کسی خوف سیسہ پلائی دیوار بن کر مزاحمت کریں اور یاد رکھیں کہ جب بھی محکموم ایسےاستحصالی منصوبوں اور نو آبادکاری کے خلاف آواز اٹھا کر جدوجہد کرتے ہیں تو سامراج اور ظالم کی جانب سے ہمیشہ ان کے اوپر ظلم و جبر کے زریعےخاموش کرانے کی کوشش کیا جاتا ہے، لیکن محکوم اور مقامی آبادی کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی مستقبل مزاحمت کرنے میں پنہاں ہے، مظلوم اور مقامی بلوچوں کے پاس بھی مزاحمت کے سواء اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ملیر ایکسپریس وے کے نام پر ملیر کی مقامی آبادی کی بے دخلی سمیت شہید صباء دشتیاری کی نشانی سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کو گرانا ایک گھناؤنی حرکت ہے، ریاستی حکمرانوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ سید ہاشمی ریفرنس لائبریری صرف ایک لائبریری نہیں بلکہ بلوچ قوم کی تاریخ اور ادب کی ایک آرکائیوں کی حیثیت رکھتی ہے، سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کو گرانا بلوچ قوم کے تاریخ اور ادب سمیت شہید صباء دشتیاری کی آخری نشانی کو ختم کرنے اور مٹانے کی مترادف ہے، جس کی بلوچ قوم قطعا اجازت نہیں دےگی۔

Share This Article
Leave a Comment