بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکز ی شہر تربت کے علاقے ڈی بلوچ سی پیک شاہراہ پر لاپتہ صغیر سجا د کی بازیابی کیلئے جاری دھرناگاہ پرفورسز نے حملہ کرکے لاپتہ صغیر سجاد کے والد سجاد حسین کو گرفتار کرلیا۔
فیملی کا کہنا ہے کہ ایم ایٹ شاہراہ ڈی بلوچ پوائنٹ پر لاپتہ صغیر سجاد کی عدم بازیابی کے خلاف صبح سے جاری دھرنے میں پولیس نے ڈی ایس پی کی سربراہی میں آکر مزاکرات کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے دھرنا گاہ پر خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے کے بعد احتجاج ختم کرانے کے لیے لاپتہ صغیر سجاد کے والد سجاد حسین کو حراست میں لے لیا۔
فیملی کا کہنا ہے کہ سجاد حسین پولیس کا ملازم ہے۔
فیملی نے مزید کہا کہ پولیس کی تشدد، ہراسانی اور سجاد کو گرفتار کرنے کے بعد ٹریفک مجبوری میں کھول دیا گیا ہے۔
واضع رہے کہ ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے میری کلات سے پاکستانی فورسزکے ہاتھوں لاپتہ کیے گئے زامیاد ڈرائیور صغیر سجاد کی عدم بازیابی کے خلاف ان کے اہل خانہ نے آج منگل کو ایک بار پھر ڈی بلوچ پوائنٹ پر دھرنا دے کر سی پیک شاہراہ ایم ایٹ بلاک کردیاتھا ۔
صغیر سجاد کو رواں ہفتے گھر سے ان کے بھائی قدیر سجاد کے ہمراہ لاپتہ کیا گیا تاہم بعد میں قدیر کو رہا کیا گیا۔
صغیر سجاد کی بازیابی کے لیے فیملی نے اس سے قبل بھی ڈی بلوچ پوائنٹ پر ایم ایٹ شاہراہ پر دھرنا دے کر روڈ بلاک کردیا تھا مگر انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔
فیملی کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے صغیر کے بازیابی کی مسلسل وعدہ خلافی پر مجبور ہوکر سی پیک شاہراہ بند کررہے ہیں اگر صغیر کو باحفاظت بازیاب نہیں کیا گیا تو احتجاج ختم نہیں کریں گے۔