افغانستان ميں بارش و سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد400 کے قریب

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

افغانستان ميں جاری بارش و سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد400 کے قریب پہنچ گئی ہے ۔

پچھلے ہفتے ان بارشوں کے نتیجے میں افغانستان کے شمالی علاقوں ميں ت300 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ تازہ سيلاب ميں مزيد 70 افراد کی جان چلی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 300 سے زائد افراد ہلاک اور 2000 گھر تباہ ہو گئے، جس سے شمالی افغان صوبے بغلان کے پانچ اضلاع متاثر ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سیلاب سے بدخشاں، غور اور مغربی ہرات کے صوبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

افغانستان کے وسطی حصوں ميں تازہ بارشوں اور سيلاب کے نتيجے ميں کم از کم مزید 70 افراد ہلاک ہو گئے ہيں۔

صوبہ غور کے انفارميشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ مولوی عبدالحئی زعيم نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتايا کہ جمعہ سترہ مئی سے شروع ہونے والے بارشوں اور سيلابی ريلوں کے نئے سلسلے کی وجہ سے دو ہزار مکانات مکمل تباہ ہو گئے ہيں جبکہ چار ہزار مکانات کوشديد نقصان پہنچا ہے۔

صوبائی صدر مقام فيروز کوہ ميں دو ہزار کے قريب دکانيں اب بھی زير آب ہيں۔ زعيم کے بقول فی الحال زخميوں کی حتمی تعداد کا تعين نہيں کيا جا سکا ہے جبکہ سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے کئی علاقوں تک رسائی بھی اب تک ممکن نہيں ہو سکی۔

شمالی افغانستان ميں پچھلے ہفتے شديد بارشوں اور سيلاب کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس ميں 315 افراد ہلاک اور سولہ سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ سب سے زیادہ تباہی بغلان، بدخشاں، ہرات اور غور صوبے میں آئی ہے۔ افغان ايئر فورس کا ايک ہيلی کاپٹر ريسکيو کی سرگرميوں کی دوران بدھ کے روز گر کر تباہ ہو گيا تھا۔ اس حادثے ميں ايک شخص ہلاک اور بارہ ديگر زخمی ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار اور فوری امدادی اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے عالمی برادری سے بھی مصیبت کی اس گھڑی میں افغانستان کی بھرپور مدد کی اپیل کی تھی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغانستان کے وزیر اقتصادیات دین محمد حنیف نے اقوام متحدہ، انسانی امداد کے اداروں اور نجی شعبوں پر زور دیا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے امداد فراہم کریں۔ تاہم اب تک ان اپيلوں پر کوئی خاص رد عمل سامنے نہيں آيا۔

افغانستان اکثر قدرتی آفات کی زد ميں رہتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف مطالعات ميں اس ملک کو موسمياتی تبديليوں کے اثرات سے سب سے زيادہ متاثرہ ممالک کی فہرست ميں شامل کيا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں افغانستان کا حصہ صرف 0.06 فیصد ہونے کے باوجود افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے۔

Share This Article
Leave a Comment