گوادروبالگتر سے پاکستانی فورسز ہاتھوں 2 نوجوان جبراً لاپتہ ، ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے گوادر اور بالگتر سے پاکستانی فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔جبکہ گوادر سے ایک لاپتہ نوجوان بازیاب ہوگیا ہے ۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے فوورسز نے مزید ایک نوجوان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا، جبکہ ایک لاپتہ شخص بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت محسن بلوچ ولد رحیم بخش کے نام سے ہوئی ہے۔

مذکورہ نوجوان کو ساحلی شہر گوادر کے علاقے سربندن سے گذشتہ روز حراست میں لیا ہے۔

خیال رہے کہ گوادر میں گذشتہ ایک ہفتے سے آپریشن جاری ہے، ابتک فورسز نے متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔

گذشتہ دنوں فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والوں میں پانچ افراد کی شناخت سمیر ولد حمزہ، بلال ولد رضا محمد، درمحمد ولد کریم بخش، امیر ولد اسلم اور امان ولد جمعدار کے ناموں سے ہوئے تھیں۔

دوسری جانب 9 مئی کو گوادر سے فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ نظام بلوچ بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا۔

دوسری جانب بالگتر سے مسلح گاڑی سواروں نے ایک شخص کو اغواء کرنے کے بعد لاپتہ کردیا۔

اغواء ہونے والے نوجوان کی شناخت آدم ولد سومار سکنہ بالگتر لوپ کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے مذکورہ نوجوان تیل کے کاروبار سے وابستہ تھا اور وہ گذشتہ روز سرحد سے واپس گھر پہنچے تھے کہ انہیں اغواء کیا گیا۔

علاقائی ذرائع کا اغواء کاروں کے حوالے سے کہنا ہے ان کا تعلق حکومتی حمایت یافتہ گروہ ڈیتھ اسکواڈ سے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں نے مسلح گروہ تشکیل دیئے ہیں جنہیں حرف عام میں ڈیتھ اسکواڈز کہتے ہیں۔

قوم پرست حلقوں کا کہنا ہے سرکاری حمایت یافتہ گروہ بلوچستان بھر میں لوگوں کے اغواء و لاپتہ کرنے کے علاوہ دیگر سماجی برائیوں میں بھی ملوث ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے انہیں مکمل چھوٹ دی ہوئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment